خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 727 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 727

خطبات محمود ۷۲۷ سال ۱۹۳۸ء اس کے پہلو میں ایک ایسی حکومت قائم کر دی جائے جو ہماری دوست ہو تو جب جرمنی کے ساتھ جنگ ہو تو وہ حکومت ایک طرف سے حملہ کر دے اور ہم دوسری طرف سے کریں۔اسی طرح کی ایک پولش حکومت بھی بنائی گئی لیکن مثل مشہور ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ، جرمن قوم کے متعلق خدائی فیصلہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے رکھے گا اور اس لئے یہ کس طرح ممکن تھا کہ کوئی اسے چکھ سکتا۔پہلے اٹلی میں مسولینی پیدا ہوا، اس کے بعد جرمنی میں ایک شخص آگے آیا جسے اس کی قوم فیو ہر ریعنی لیڈ رکہتی ہے۔یہ شخص پہلے فوج میں دفعدار کی حیثیت رکھتا تھا اور جنگ عظیم سے پہلے یہ ایک معمولی ڈرانسمین تھا اور انجینئر کے زیر ہدایت نقشے تیار کیا کرتا تھا۔جنگ کے بعد اس کے دل میں خیال کی آیا کہ پریذیڈنٹ ولسن نے تو تحریک کی تھی کہ اگر جرمنی لڑائی چھوڑ دے تو صلح ان اصول کے ماتحت کی جائے گی کہ کوئی قوم دوسری قوم کو اپنے ماتحت نہ رکھے لیکن ہمارے ملک کا ایک حصہ تو زیکوسلواکیہ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے حالانکہ اس کا کسی کو حق نہیں تھا اور اسنے اعلان کیا کہ ہم اسے واپس لیں گے ، اسی طرح اس نے بعض اور باتیں بھی سوچیں۔پھر اس نے اس سوال پر غور کرنا شروع کیا کہ لڑائی میں ہمیں شکست کیوں ہوئی اور آخر کار وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یورپین اقوام نے جو ہمارے خلاف لڑ رہی تھیں یہودیوں کو رشوت دے کر ملک کے اندر فساد بر پا کرا دیا تھا۔انہوں نے یہودیوں کو اُکسایا اور ان سے وعدہ کیا کہ تمہیں فلسطین میں آباد کیا جائے گا تم کوشش کرو کہ جرمنی کی طاقت کمزور ہو جائے۔چنانچہ وہ روپے والے لوگ تھے ، جس طرح کی یہاں سا ہو کا رجس طرف چاہیں زمینداروں کو ہانک کر لے جاتے ہیں انہوں نے جرمنی میں فساد پیدا کر دیا اور ایجی ٹیشن شروع کرا دی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ جنگ میں ہماری کمزوری کا موجب دراصل یہودی تھے اور اس لئے اس نے اپنی انجمن کے مقاصد میں سے ایک مقصد بھی رکھا کہ ہم کسی غیر ملکی کو اپنے ملک میں نہیں رہنے دیں گے۔مہمان کے طور پر تو رہ سکتا ہے لیکن مستقل طور پر یہاں سکونت اختیار نہیں کرسکتا ، ووٹ نہیں دے سکتا ، حکومت میں کوئی حصہ نہیں لے سکتا اور نوکری وغیرہ حاصل نہیں کر سکتا۔اس نے اپنی انجمن کے لئے پچیس نکات مقرر کئے جن میں سے کئی ایسے ہیں جو اسلامی تعلیم کے مطابق ہیں اور وہی دراصل اس کی برکت کا موجب