خطبات محمود (جلد 19) — Page 728
خطبات محمود ۷۲۸ سال ۱۹۳۸ء ہوئے ہیں۔مثلاً فیو ہر رنے ایک مقصد اپنا یہ بھی رکھا کہ ہم سود کی لعنت کو ملک سے دور کریں گے اور اس یورپ میں جس کا تمام کا روبار ہی سود پر چل رہا ہے اس نے بنکوں وغیرہ پر ایسا تصرف قائم کیا ہے کہ سود کو بہت محدود اور کم کر دیا ہے اگر چہ گلی طور پر دور کرنے کی توفیق اسے تا حال نہیں ملی۔جب فیو ہر ان خیالات کو لے کر کھڑا ہوا تو چونکہ جرمن قوم میں ابھی بیداری موجود تھی ، وہ ایک زندہ قوم تھی، تعلیم بھی موجود تھی۔اس لئے لوگ آنا فانا اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔جبکہ بویریا میں ان کی تعداد بھی سو کے قریب ہی تھی وہ ان کو لے کر برلن کی طرف چل پڑا۔اسے اس قدر وثوق تھا کہ لوگ اس کے ساتھ خود بخود شامل ہو جائیں گے کہ تعداد کی اس کی قدر کمی کے باوجود وہ ڈرا نہیں لیکن پولیس نے آکر اسے گرفتار کر لیا۔غالبا ۱۹۲۳ ء یا ۱۹۲۴ء میں وہ قید ہوا اور اس سے اگلے سال معافی کا اعلان ہو گیا۔قید سے نکل کر اس نے پھر کوشش شروع کی۔قوم زندہ اور بیدار تھی اور گو اس کی باتیں نئی تھیں مگر مذہب نہیں بدلا گیا تھا کہ لوگوں کو یہ جدت ناگوار گزرتی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی طاقت روز بروز بڑھنے لگی۔۱۹۲۶ء میں اس کی پارٹی کے دو آدمی پارلیمنٹ میں آئے۔۱۹۲۹ ء میں بارہ اور ۱۹۳۲ء میں بائیس اور ۱۹۳۳ء میں حکومت ہی ان کے قبضہ میں آگئی۔اس کے پچیس نکات میں سے ایک یہ تھا کہ ہم آسٹریا کا الحاق کریں گے۔چنانچہ وہ اس میں کامیاب ہو گیا اور اس کے بعد اس نے اپنے ملک کے دوسرے حصوں کو واپس لینے کی طرف توجہ کی۔میں بتا یہ رہا تھا کہ فیو ہر ر کے نکات میں سے بعض اسلام کی تعلیم کے مطابق ہیں۔ایک تو یہی کہ اس نے سود کو کم کیا ہے اور اسے دور کرنے کی فکر میں ہے۔اس کی یہ بات اسلامی تعلیم کے قریب لانے والی ہے اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ انہی قوموں کو برکت دے رہا ہے جو اسلامی کی تعلیم کے قریب آرہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فیو ہر رکو برکت مل رہی ہے۔پھر اس نے عورتوں کے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ ان کو گھروں میں بٹھاؤ اور اگر چہ اسلامی پر دہ تو اس نے قائم نہیں کیا مگر ان کا مردوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط ناچ گانوں میں شامل ہونا وغیرہ باتوں کی ممانعت کر دی ہے اور حکم دیا ہے کہ عورتیں گھروں میں بیٹھیں شادیاں کریں اور بچے جنیں۔جو مرد عورت شادی کریں ان پر ٹیکس میں کمی کر دی جاتی ہے اور جب بچوں کی ایک خاص تعداد ہو جائے