خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 72

خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۳۸ء سے الگ ہو جاؤ۔کیونکہ اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ ہمارا روپیہ زیورات وغیرہ کی صورت میں بند نہ ہو بلکہ قوم کے فائدہ کے کاموں پر لگا ہوا ہو۔اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ رہے، اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ ہم آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں ، اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ ہماری ایک دوسرے سے ایسی محبت و الفت ہو کہ ہم ایک کی دوسرے سے پرے پرے نہ رہیں اور یہ نہ بجھیں کہ ہم کچھ اور چیز ہیں اور وہ کچھ اور چیز ہے۔میں ایک دفعہ گورداسپور کا فارم دیکھنے گیا۔اس فارم کا جو افسر ہوتا ہے اس کا عہدہ ڈپٹی کلکٹر کے برابر ہوتا ہے۔اس افسر نے مجھے تمام فارم دکھایا لیکن میں نے دیکھا کہ سڑک پر چلتے چلتے جب زمیندار سامنے آجاتے تو وہ اسے فرشی سلام کر کے گود کر ایک طرف ہو جاتے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے انہیں ہنس کر کہا کہ آپ کے صیغے کا کوئی فائدہ نہیں۔کہنے لگے کیوں؟ میں نے کہا جن زمینداروں کے فائدہ کیلئے آپ کام کر رہے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کی آپ کو دور سے دیکھتے ہی کو ذکر الگ ہو جاتے ہیں۔بھلا ایسے لوگ آپ سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور آپ ان کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد میں نے سرایڈورڈ میکلیگن کو جو اُس وقت گورنر پنجاب تھے پیٹھی لکھی کہ میں نے آپ کے ایک محکمہ کا اتفاقاً ملاحظہ کیا ہے جس کے ماتحت مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس محکمہ کا کوئی فائدہ نہیں۔اگر آپ زمینداروں کو فائدہ پہنچانے کی حقیقی خواہش رکھتے ہیں تو اس کا طریق صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ آپ چھوٹی چھوٹی تنخواہوں والے افسر مقرر کریں جو گاؤں میں جائیں اور زمینداروں سے مل جل کر کام کریں۔انہیں ہل چلا کر بتائیں اور نئے طریق زراعت کی طرف ان کی طبائع کو مائل کریں۔اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ ایک بڑی تنخواہ والا افسر آپ نے مقرر کر دیا ہے جس کی شکل دیکھتے ہی زمیندار گود کر پرے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے میری اس تجویز کو بہت پسند کیا اور لکھا کہ میں اس پر غور کروں گا۔چنانچہ اب چھوٹے چھوٹے افسر مقرر ہیں جو کھیت میں ہل چلا کر اور بیج بوکر کی زمینداروں کو دکھا دیتے ہیں۔گو اب بھی اس سے پورا فائدہ نہیں پہنچ رہا مگر بہر حال اب چھوٹے افسر بھی مقرر ہو گئے ہیں اور زمیندار آسانی سے ان سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں مگر اُس وقت صرف ڈپٹی ہی ڈپٹی ہوتا تھا کوئی چھوٹا افسر نہیں ہوتا تھا۔