خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 709

خطبات محمود 2۔9 سال ۱۹۳۸ء اور جب تک انسان اس بات کو نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے کوئی انتہا نہیں تب تک وہ نیکی کے مقام کو نہیں پاسکتا جس نے یہ گمان کیا کہ خدا تعالیٰ سے ملنے کی کوئی حد ہے وہ یا تو پاگل ہے یا خدا تعالیٰ کا منکر ہے۔ایک دفعہ اسی مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد ایک صاحب نے جو باہر سے آئے ہوئے تھے مجھ سے بات کرنے کی خواہش کی میں بیٹھ گیا تو انہوں نے سوال کیا کہ جب کوئی شخص کسی دوست سے ملنے جائے تو اس کے پاس پہنچ کر اسے گھوڑے سے اتر جانا چاہئے یا سوار ہی رہنا چاہئے یا اگر وہ دریا میں جارہا ہو تو دوست کو کنارہ پر پا کرکشتی سے اتر پڑے یا اسی میں بیٹھا ر ہے۔میں ان کا مطلب سمجھ گیا اور مجھے پتہ لگ گیا کہ یہ اباحتی آدمی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز ، روزہ وغیرہ عبادتیں سواری ہیں خدا تعالیٰ تک پہنچانے کی اور جب وہ مل جائے تو پھر ان کی کیا تج ضرورت ہے۔وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ ہم لوگ جب نمازیں پڑھتے اور دعائیں مانگتے جاتے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کبھی ملتا ہی نہیں ؟ اگر نہیں ملتا تو ان عبادتوں کا کیا فائدہ۔اور اگر ان کے نتیجہ میں وہ مل جاتا ہے تو پھر ان کی کیا ضرورت باقی رہ سکتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کا نام ان لوگوں نے کی طریقت رکھا ہوا ہے۔خیر میں اس کا مطلب سمجھ گیا اور میں نے جواب دیا اگر تو دریا محدود ہے تو کی کنارہ آنے پر کشتی سے اتر جانا چاہئے لیکن اگر در یا غیر محدود ہے تو جس وقت اُتر ا اسی وقت ڈوبا اس کی نجات کشتی میں ہی ہے اس پر وہ خاموش ہو گیا اور کہنے لگا کہ اچھا یہ بات ہے۔میں نے کہا ہاں یہی ہے میں نے اسے بتایا کہ ہم خدا تعالیٰ کو غیر محدود مانتے ہیں اور اس لئے اس کا کی وصال بھی غیر محدود ہے دریا میں چلنے والا پہلے قدم میں اور جگہ ہوتا ہے، دوسرے قدم میں اور جگہ ہوتا ہے۔تیسرے پر اور جگہ اور چوتھے پر اور جگہ۔اگر اس کا مقصد دریا ہی کی سیر ہے تو وہ کی شروع سے آخر تک دریا کی سیر میں مشغول رہے گو اس کا ہر دوسرا لمحہ پہلے سے مختلف ہے لیکن بڑھتا ہی چلا جائے تو آخر دریا ختم ہو جائے گا لیکن اگر دریا کا پاٹ غیر محدود ہے تو گوشتی میں بیٹھنے کے ساتھ ہی دریا کی سیر شروع ہو جائے گی مگر وہ ختم کبھی نہ ہوگی اور اترنے کا وقت کبھی نہ آئے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت میں ترقی کر نیوالا بھی آگے ہی بڑھتا جاتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی غیر محدود ہے اُس کا وصال بھی غیر محدود ہے جو شخص دریا میں ایک فٹ بڑھا ہو۔