خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 705 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 705

خطبات محمود ۷۰۵ سال ۱۹۳۸ ء بسا اوقات وہ توجہ نہیں کرے گا کہہ دے گا مجھے فرصت نہیں مگر لوگ اسی کے پیچھے چلے جارہے ہوں گے جہاں دوسرا اپنی قابلیت پر فخر کرنے والا ڈاکٹر سارا دن بیٹھا مکھیاں مارتا ہے وہ جسے بدنام کیا جاتا ہے انتہا درجہ مشغول رہتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے ۔ ۱۹۱۸ ء میں جب میں بیمار ہوا تو ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ ڈاکٹر سدر لینڈ سے مشورہ کیا جائے ۔ میں نے انہیں مشورہ کے لئے وقت دینے کے لئے لکھوایا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے فرصت نہیں اور پندرہ دن یا شاید میں دن کے بعد کہا کہ دیکھ سکوں گا ۔ چنانچہ ہم اتنے ہی دن کے بعد گئے تو انہوں نے معذرت کی اور نوٹ بک نکال کر دکھائی اور بتایا کہ میں روزانہ ہی مریض دیکھتا ہوں اور آج تک کے نام پہلے ہی مقرر تھے ۔ لیکن لاہور میں دوسرے ڈاکٹروں کی عام طور پر یہی رائے تھی کہ وہ B۔ Coli کے کے سوا کچھ جانتا ہی نہیں وہ اس کے خلاف شور مچاتے تھے مگر لوگ پھر اس کے پاس پہنچتے تھے حالانکہ وہ دیکھنے سے انکار کرتا تھا اور ظاہر ہے کہ جس وکیل یا ڈاکٹر کے پاس لوگ جائیں گے کمائی بھی وہی کرے گا اور عزت وشہرت بھی اسے ہی حاصل ہوگی اور دوسرا اسے بدنام کرنے والا صرف گڑھتا اور دل میں جلتا رہے گا ۔ تو پبلک جس کے متعلق فیصلہ کرے کہ وہ اچھا ہے اسے ہی روپیہ اور شہرت اور عزت حاصل ہوتی ہے۔ پبلک کے دماغ میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ وہ محسوس کر لیتی ہے کہ قابلیت کس کے پاس ہے اور اس لئے اس کا فیصلہ قابلِ قدر ہوتا ہے بشرطیکہ اس کا فیصلہ ورثہ میں نہ ملا ہو بلکہ اس نے خود تجربہ کے بعد حاصل کیا ہو اور پبلک کا فیصلہ یہی ہے کہ جو عزت وہ کامیاب وجودوں کو دیتی ہے وہی ایسے نا کام وجودوں کو دیتی ہے جو استقلال ساتھ اپنے مقصود کے پیچھے پڑے ر پڑے رہے ۔ پبلک نے جس مقام پر سکندر اور رستم کو بٹھایا ہے اسی پر مجنوں ، فرہاد اور پنجاب میں رانجھے کو بٹھایا ہے ۔ یہ پبلک کا فیصلہ بتاتا ہے کہ انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ اس کے نزدیک استقلال کے ساتھ کسی چیز کے پیچھے چلے جانا کے بڑی خوبی ہے ۔ تو جو شخص دن میں چالیس کا پالیس پچاس مرتبہ عاجزانہ طور پر یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! مجھے سیدھا راستہ دکھا اور کہتا چلا جاتا ہے حتی کہ اسے موت آ جاتی ہے تو اگر وہ یہ دعا اسی اخلاص سے کرتا ہے