خطبات محمود (جلد 19) — Page 689
خطبات محمود ۶۸۹ سال ۱۹۳۸ء کیونکہ گو وہ مانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بچا سکتا ہے مگر اسے اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ واقع میں اللہ تعالیٰ اسے بچا سکتا ہے۔وہ صرف ایک بات پر عقیدہ رکھتا ہے۔اس بارے میں اسے یقین حاصل نہیں ہوتا اور عقیدہ اور چیز ہے اور یقین اور چیز۔عقیدہ ایک رسمی چیز ہوتا ہے مگر ایمان اور یقین ذاتی فعل ہیں یہ جو ماں باپ سے لوگ دین سیکھتے ہیں ، یہ صرف عقیدہ ان سے لیتے ہیں، ایمان ان سے نہیں لیتے۔ایمان ہر انسان کو خود حاصل کرنا پڑتا ہے۔یہ کوئی جائداد نہیں جو انسان کو اپنے ماں باپ سے ورثہ میں مل جائے۔دولت ورثہ میں مل سکتی ہے ، مکان ورثہ میں مل سکتا تی ہے، جائداد ورثہ میں مل سکتی ہے مگر ایمان ورثہ میں نہیں مل سکتا۔ایمان ہر انسان کو خود کما نا پڑتا ہے چاہے ہزار پشت سے کوئی مؤمن خاندان چلا آ رہا ہو پھر بھی ہزارویں پشت میں جولڑ کا ہوگا اس کو خود ایمان کمانا پڑے گا ورثہ میں اسے نہیں ملے گا۔ورثہ میں اسے صرف عقیدہ ملے گا نہ کہ ایمان۔ایک مسلمان کا بچہ عقیدہ یہی کہے گا کہ خدا ایک ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے رسول ہیں مگر اسے ایمان نہیں کہا جائے گا۔ایمان اُس میں تبھی پیدا ہو گا جب وہ کی اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور کر کے اور اس کے نشانات پر تدبر کر کے یہ کہے گا کہ ہاں واقع میں اللہ ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔میں گیارہ سال کا تھا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے یہ تو فیق عطا فرمائی کہ میں اپنے عقیدہ کو ایمان سے بدل لوں۔مغرب کے بعد کا وقت تھا ، ہمیں اپنے مکان میں کھڑا تھا کہ یکدم مجھے خیال آیا۔کیا میں اس لئے احمدی ہوں کہ بانی سلسلہ احمد یہ میرے باپ ہیں یا اس لئے احمدی ہوں کہ احمدیت سچی ہے اور یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے۔یہ خیال آنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس بات پر غور کر کے یہاں سے ہٹوں گا اور اگر مجھے پتہ لگ گیا کہ احمدیت کچی نہیں تو میں اپنے کمرے میں داخل نہیں ہوں گا بلکہ یہیں صحن سے باہر نکل جاؤں گا۔یہ فیصلہ کر کے میں نے غور کرنا شروع کیا اور قدرتی طور پر اس کے نتیجہ میں بعض دلائل کی میرے سامنے آئے جن پر میں نے جرح کی۔کبھی ایک دلیل دوں اور اُسے تو ڑوں پھر دوسری دلیل دوں اور اسے رڈ کروں پھر تیسری دلیل دوں اور اسے توڑوں۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ سوال میرے سامنے آیا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے ؟ اور کیا کی