خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 688 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 688

خطبات محمود ۶۸۸ سال ۱۹۳۸ء موقع پر دھوکا فریب بھی کر لیا کرو، اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر چالبازی سے بھی کام لیا ج کرو، اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر غیبت اور چغلی سے بھی کبھی کبھی فائدہ اُٹھا لیا کرو اور ج پھر یہ امید رکھو کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو یا درکھو تمہیں ہرگز وہ کامیابی حاصل نہیں ہوگی جس کا وعدہ اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ہے۔یہ چیزیں دُنیا کی انجمنوں میں بیشک کام آیا کرتی ہیں مگر دین میں ان کی وجہ سے برکت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اُتر ا کرتی ہے۔چند دن ہوئے ہمارے سلسلہ کے ایک آدمی نے کسی موقع پر مجھ سے ایک بات کا ذکر کیا جس سے میں یہ سمجھا کہ کسی اور شخص کو جھوٹ بولنے کے لئے کہا گیا تھا۔یہ سن کر میری حیرت کی کی کوئی انتہاء نہ رہی کہ پچاس سال آج ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے ہورہے ہیں اور پچاس سال سے یہ تعلیم ہماری جماعت کے کانوں میں ڈالی جارہی ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا، جھوٹ نہیں بولنا۔مگر با وجود اس کے میرے سامنے نہایت صفائی سے کہہ دیا گیا کہ فلاں احمدی سے اتنے جھوٹ کی اُمید کی گئی تھی مگر اس نے اتنا جھوٹ بھی نہ بولا۔مجھے طبعاً اس پر غصہ آنا چاہئے تھا اور آیا۔چنانچہ میں نے کہا احمدیت اور جھوٹ نہایت متضاد چیزیں ہیں۔تم اس پر الزام لگاتے ہو اور کہتے ہو کہ اس نے جھوٹ کیوں نہ بولا۔حالانکہ میرے نزدیک اس نے بہت بڑی نیکی کا کام کیا ؟ کہ باوجود تحریک کے اس نے جھوٹ نہ بولا۔میرے اس کہنے پر وہ نہایت سادگی سے کہنے لگاتی اچھا اگر کوئی غیر احمدی جھوٹ بول دے؟ میں نے کہا اگر کوئی غیر احمدی ہمارے علم کے بغیر ہزاری دفعہ بھی جھوٹ بولتا ہے تو بیشک بول دے لیکن اگر وہ ہمارے اشارہ سے جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ بولنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لعنت اُترے گی وہ اُس پر پڑے گی اور ہم پر بھی پڑے گی۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر تو کل کوئی آسان نہیں بلکہ بہت بڑا مشکل کام ہے۔یہ ایک موت ہے جو انسان کو قبول کرنی پڑتی ہے اور جب تک کوئی شخص موت قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو اس وقت تک اسے تو کل کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔جب تک انسان کے لئے سہولت اور آرام کا زمانہ رہتا ہے وہ بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا کی چاہئے ، جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔مگر جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو جھوٹ بول لیتا ہے