خطبات محمود (جلد 19) — Page 681
خطبات محمود ۶۸۱ سال ۱۹۳۸ء جب میں شدت ضعف سے بیہوش ہو جاتا تھا تو لوگ میرے سر پر جوتیاں مارنے لگ جاتے اور سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے۔کے پھر حضرت ابو ہریرہا کسی اعلیٰ خاندان میں سے نہ تھے، کوئی دولت مند نہ تھے ، کوئی پڑھے لکھے نہ تھے۔پھر ہمارا بھی ان سے کوئی رشتہ داری کا تعلق نہیں۔نہ ملک کا تعلق ہے نا خاندان کا تعلق ہے نہ زبان کا تعلق ہے۔دُنیوی لحاظ سے وہ نہایت ہی ادنیٰ حالت کے تھے مگر آج ہماری یہ حالت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہے بغیر دل کو چین آتا ہی نہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جو حالت تھی وہ خود ان کے باپ کی شہادت سے ظاہر ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے باپ کا نام ابو قحافہ تھا جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو اُس وقت ابو قحافہ مکہ میں تھے۔کسی شخص نے وہاں جا کر ذکر کیا کہ ابوبکر عرب کا بادشاہ ہو گیا ہے۔ابوقحافہ مجلس میں بیٹھے تھے کہنے لگے کون سا ابو بکر ؟ اس نے کہا وہی ابوبکر قریشی۔وہ کہنے لگے کون سا قریشی ؟ اس نے کہا وہی جو تمہارا بیٹا ہے اور کون۔وہ کہنے لگے واہ ابو قحافہ کے بیٹے کو عرب اپنا بادشاہ مان لیں یہ کیسے ہو سکتا ہے، تو بھی عجیب باتیں کرتا ہے۔غرض ابو قحافہ کی یہ حالت تھی کہ وہ کی اپنے بیٹے کے متعلق یہ مان ہی نہیں سکتے تھے کہ سارا عرب انہیں اپنا بادشاہ تسلیم کر لے گا مگر اسلام کی خدمت اور دین کے لئے قربانیاں کرنے کی وجہ سے آج حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو کی عظمت حاصل ہے وہ کیا دُنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل ہے؟ آج دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جسے اتنی عظمت حاصل ہو جتنی حضرت ابو بکر کو حاصل ہے بلکہ حضرت ابو بکڑ تو الگ رہے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی اتنی عظمت حاصل نہیں جتنی مسلمانوں کے نزدیک حضرت ابوبکر کے نوکروں کو حاصل ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ ہمیں حضر ابوبکر کا کتا بھی بڑی بڑی عزتوں والوں سے اچھا لگتا ہے۔اس لئے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا خادم ہو گیا۔اس لئے کہ اس نے ہمارے رب کے دروازہ پر سجدہ کیا۔جب اس نے ہمارے رب کے دروازے پر سجدہ کیا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا غلام ہو گیا تو اس کی ہر کی چیز ہمیں پیاری لگنے لگ گئی اور اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اس عظمت کو ہمارے دلوں سے محو کر سکے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے اور تاجر کولڑائی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔وہ مال و اسباب کی گٹھڑی اُٹھا کر ارد گرد کے دیہات میں چلے جاتے اور اسے فروخت کرتے۔