خطبات محمود (جلد 19) — Page 637
خطبات محمود ۶۳۷ سال ۱۹۳۸ء (ہمارے دوستوں کو اس موقع پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ ایک بھتیجی چچا کے سامنے کس طرح کی ناچ سکتی ہے۔یہ رومیوں کی بات ہے اور ان میں شراب پینا اور ناچ کرنا دونوں باتیں جائز کبھی جاتی تھیں) بہر حال جب وہ ناچی تو ہیرو ڈانٹی ایس بہت ہی خوش ہوا اور اس نے کہا مانگ جو کچھ مانگتی ہے۔اس پر جیسا کہ اس کی ماں ہیرو د یاس نے اُسے سکھا رکھا تھا کہا کہ میں بیٹی کا سر مانگتی ہوں۔بادشاہ نے کہا۔اگر میں نے بیٹی کو قتل کرایا تو بغاوت ہو جائے گی۔وہ کہنے لگی کچھ ہو آپ نے وعدہ کیا ہے کہ میں جو کچھ مانگوں گی آپ دیں گے۔پس آپ اپنے وعدے کا پاس کریں۔اس پر بادشاہ نے اپنے آدمی بھجوا کر قید خانہ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرا دیا کی اور ان کا سرلڑکی کے سامنے رکھ دیا۔اب یہ واقعہ ایک غیر جانبدار مؤرخ لکھتا ہے کوئی عیسائی نہیں لکھتا۔کوئی یہودی نہیں لکھتا ( یعنی ایسا یہودی نہیں لکھتا جو مذہبی آدمی ہو اور نہ یہ واقعہ وہ کسی مذہبی بناء پر لکھ رہا ہے۔بلکہ ایک مؤرخ ہونے کی حیثیت میں تاریخی بنا پر یہ واقعہ لکھ رہا ہے ) اور ایسی حالت میں لکھتا ہے۔جبکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل پر ابھی صرف پچاس ساٹھ سال کا عرصہ گزرا اور اس وقت کے واقعات کو جاننے والے سینکڑوں زندہ ہوتے ہیں۔اور کوئی جھوٹ اور غلط بات نہیں لکھی جاسکتی۔پھر یہ مؤرخ کوئی معمولی نہیں۔بلکہ ایسا سچ بولنے والا مؤرخ ہے کہ عیسائی بھی اس کی باتیں تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو زیفس نہایت راستباز مؤرخ تھا۔وہ جان بوجھ کر کی غلط بیانی کبھی نہیں کرتا۔ہاں اتفاق سے کوئی غلطی کر جائے تو اور بات ہے۔اسی وجہ سے عیسائی مورخ اس کی بڑی قدر کرتے ہیں۔اور یہودی بھی بڑی قدر کرتے ہیں۔راستباز اور مشہور مؤرخ حضرت یحیی علیہ السلام کے قتل کے صرف پچاس ساٹھ سال بعد لکھتا ہے کہ ہیرڈ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرایا۔اور جب لڑکی نے بیٹی کا سر مانگا تو اس نے کہا۔کہ حضرت یحییٰ کو ماننے والے بہت ہیں اگر میں نے انہیں قتل کرایا تو بغاوت ہو جائے گی۔جس پر لڑکی نے کہا۔کہ آپ نے جب وعدہ کیا ہے تو اسے پورا کریں۔خواہ کچھ ہو۔چنانچہ اس نے قید خانہ میں آپ کو قتل کرایا۔اور آپ کا سر منگوا کر اپنی بھتیجی کے سامنے پیش کیا۔اگر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مریدوں اور انجیلوں کے بیانوں کے ساتھ ایک ایسے مشہور او