خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 636

خطبات محمود ۶۳۶ سال ۱۹۳۸ اس وجہ سے اس کی گواہی بالکل غیر جانبدارانہ ہے اس نے اپنی تاریخ میں حضرت بیجی علیہ السلام کے قتل کے واقعات نہایت تفصیل سے لکھے ہیں۔وہ لکھتا ہے بادشاہ ہیرو ڈانٹی ایس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا رسوخ دیکھ کر اس ڈر سے کہ زور پکڑ کر بغاوت نہ کر دیں مینجرس کے قلعہ میں ان کو قید کر دیا اور بعد میں مروا دیا ( ہیروڈ انٹی ایس گورنر تھا۔مگر چونکہ پرانے زمانہ میں گورنروں کو بادشاہ کہہ دیا جاتا تھا اس لئے جو زیفس نے بھی ہیرو کو بادشاہ قرار دیا ہے ، ورنہ درحقیقت وہ بادشاہ نہیں بلکہ گورنر تھا ایشیا میں پرانے زمانہ میں یہی طریق رائج تھا چنانچہ الف لیلیٰ میں نہایت کثرت سے گورنروں کو بادشاہ کے نام سے پکارا گیا ہے ) اس واقعہ شہادت کی تفصیلات تاریخ میں اس طرح آتی ہے کہ ہیروڈ انٹی ایس کا ایک بھائی فیلبوس نامی تھا۔جب وہ مرا۔تو ہیرو ڈانٹی ایس نے چاہا کہ اس کی بیوی ہیرو د یاس سے شادی کر لے۔اس کے خلاف حضرت یحیی علیہ السلام نے بعض اخلاقی وجوہ سے اعتراض کیا۔محبہ یہ کی کیا جاتا ہے کہ ہیروڈ انٹی ایس کا پہلے سے اس عورت کے ساتھ ناجائز تعلق تھا۔اور اسی نے اپنے بھائی کو مروا ڈالا تھا۔بعض یہ کہتے ہیں کہ عورت خود خراب اور بدچلن تھی اور اس نے اپنے خاوند کو مروا دیا۔بہر حال حضرت یحیی علیہ السلام کا اعتراض تاریخی طور پر ثابت ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شادی مناسب نہیں کیونکہ اس طرح قوم کے اخلاق پر بُرا اثر پڑنے کا اندیشہ ہے چونکہ وہ یہودیوں کا علاقہ تھا اور گورنر کو یہودیوں کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا اس لئے اس نے شادی تو نہ کی مگر دل میں اس نے اس بات کو بہت بُرا محسوس کیا۔اور اس عورت کو بھی لازما بر امحسوس ہوا۔کہ میں ملکہ بننے والی تھی۔مگر حضرت بیٹی کی وجہ سے نہ بن سکی۔چنانچہ اس نے اندر ہی اندر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خلاف سازش شروع کر دی بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے اس عورت سے شادی کر لی تھی۔اور اپنے گھر میں رکھ لیا تھا۔بہر حال ہیروڈ انٹی الیس اور اس عورت کو اس بات کا غصہ تھا کہ حضرت یحیی نے ان کے رستہ میں رکاوٹ کیوں ڈالی۔ایک دفعہ جب کہ ہیروڈ انٹی ایس کی سالگرہ کا دن تھا تو ہیرود یاس کی بیٹی جو ہیرو ڈانٹی ایس کی بھیجی تھی اس کی کے سامنے ناچی۔