خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 635

خطبات محمود ۶۳۵ سال ۱۹۳۸ ء کی ہے۔ اور چونکہ یہ گزشتہ سال کا واقعہ ہے اس لئے اب وہ ۹۹ سال یا سو سال کے ہوں گے ۔ تو ایسے آدمی بھی ہوتے ہیں جو خاص طور پر لمبی عمر رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ میں نے اپنے تجربہ میں ہی ایسے کئی آدمی دیکھے ہیں ۔ ہماری تائی صاحبہ تھیں وہ بھی سو سال کی تھیں ۔ اسی طرح اور کئی لوگ ہوتے ہیں قادیان کے ایک نائی تھے جو قریباً سو سال کی عمر میں فوت ہوئے ۔ گویا قادیان میں ہی تین چار آدمی مجھے ایسے معلوم ہیں ۔ جنہوں نے سو سال یا اس سے زیادہ عمر پائی۔ تو اگر چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی تین چار ایسے آدمی مل سکتے ہیں جو اتنی لمبی عمر پانے والے ہوں تو ایک قوم میں تو یقینا سینکڑوں ایسے آدمی ہوتے ہوں گے جن کی عمر سو سال کے قریب ہوتی ہوگی ۔ پس جوزیفس کی جوانی کے وقت جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے واقعہ سے ستاون اٹھاون سال بعد کا زمانہ ہے ۔ یقیناً سینکڑوں آدمی موجود ہوں گے جو اس وقت کے عینی شاہد یا صحیح حالات جاننے والے ہوں گے کیونکہ جو زیفس کے متعلق اگر یہ سمجھا جائے کہ اس نے ہمیں بائیس سال کی عمر میں حالات جمع کرنے شروع کئے ۔ تو جو لوگ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے واقعہ کے وقت ہیں سال کی عمر کے ہوں ۔ ان کی عمر جوزیفس کی بیس سال کی عمر کے وقت چھہتر ستتر سال کی ہوتی ہے ۔ پس یقیناً ان کے خاص مریدوں یا ان کے حالات کو دیکھنے والے غیر جانبدار لوگوں سے واقعات سن کر جو زیفس نے اپنی تاریخ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعات لکھے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مریدوں میں سے ایسے لاکھوں آدمی اس وقت موجود تھے جو گویا تابعی تھے۔ اور جنہوں نے اس وقت کے حالات دیکھنے والوں سے حالات سنے تھے ۔ ان سب سے معلوم ہو سکتا تھا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام طبعی موت سے فوت ہوئے ہیں یا شہید کئے گئے ہیں۔ بس جو زیفس کی گواہی نہایت ہی زبردست گواہی ہے یہ ۳۷-۳۶ء میں پیدا ہوا ۔ گویا اس وقت پیدا ہوا ۔ جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے واقعہ پر ابھی صرف ۳۷ سال گزرے تھے۔ اور اگر تاریخ کی تدوین کے وقت اس کی عمر میں سال سمجھی جائے را تو گویا جس وقت اس نے تاریخ لکھی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے واقعہ قتل پر صرف ۵۷ سال گزرے تھے یہ شخص حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مرید نہیں نہ عیسائی اور رومی ہے۔ بلکہ یہودی ہے اور