خطبات محمود (جلد 19) — Page 634
خطبات محمود ۶۳۴ سال ۱۹۳۸ء ایک دوست بیعت کے لئے آئے تھے۔انہوں نے اپنی عمر ایک سو بیس سال بتائی تھی اگر وہ زندہ ہیں کی تو گویا یہ دونوں ہم عمر ہیں۔انہوں نے بیان کیا کہ غدر میں انہوں نے بھی حصہ لیا تھا۔اور وہ اُس وقت کی باتیں اس طرح بیان کرتے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا گویا قبروں میں سے کوئی آدمی اٹھ کر آ گیا ہے۔اور وہ باتیں بیان کر رہا ہے اور ابھی ماشاء اللہ ان کے قومی اچھے خاصے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ وہ حضرت خلیفہ اول کے استاد کے استاد کے مرید اور شاگرد ہیں اور ان کے پیر اور مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسه دارلعلوم دیو بند کے پیر ایک ہی شخص تھے۔کئی واقعات جو ہم حضرت خلیفہ اول سے سنا کرتے تھے وہ انہوں نے اس مجلس میں بیٹھے بیٹھے سنائے۔اور وہ اسی طرح تھے جس طرح ہم نے حضرت خلیفہ اول سے سنے تھے۔وہ سرساوہ کے رہنے والے ہیں جہاں کے شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی ہیں۔میں نے جب تعجب سے ان سے پوچھا کہ آپ تو شیخ اسماعیل صاحب سرساوی سے بہت بڑے ہوں گے تو وہ کہنے لگے آپ ان سے کہتے ہیں۔میں تو ان کے والد جن کا یہ نام تھا اُن سے بھی عمر میں بہت بڑا تھا۔پھر کہنے لگے۔پیر سراج الحق صاحب مرحوم کو تو میں نے گودی میں کھلایا ہے تو ایسے آدمی دنیا میں آجکل بھی پائے جاتے ہیں جن کی عمریں بہت بڑی ہیں اور وہ سو سو سو سال کے واقعات کے عینی شاہد ہیں۔گزشتہ سال مجھے ایک بوڑھے آدمی ملے۔ان کی شکل حافظ غلام رسول صاحب کی وزیر آبادی سے اس قدر ملتی جلتی تھی۔کہ میں نے دیکھتے ہی کہا۔آپ ان کے رشتہ دار ہیں۔انہوں نے کہا۔میں ان کا چچا ہوں۔اور ان کی عیادت کے لئے آیا ہوں ان کے چہرے سے جس قسم کی طاقت ظاہر ہوتی تھی اس سے اندازہ کر کے میں نے قیاس کیا کہ یہ غالبا ان سے چھوٹے ہیں کیونکہ بعض اوقات بھتیجے کی عمر چا سے زیادہ بھی ہوتی ہے اس لئے میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ حافظ صاحب سے چھوٹے ہیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا۔وو جدوں اس دی ماؤ دا ویاہ ہو یا سی اودوں میں اٹھارہ دریاں دا ساں“ یعنی جب ان کی والدہ کی شادی میرے بھائی سے ہوئی تھی اس وقت میری عمر اٹھارہ برس کی تھی۔حافظ صاحب کے قومی بھی مضبوط تھے گواب بیماری کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئے ہوں۔مگر کی پھر بھی ان کا اپنے چچا سے کوئی جوڑ ہی نہیں۔پھر انہوں نے کہا۔اس وقت میری عمر ۹۹،۹۸ سال