خطبات محمود (جلد 19) — Page 633
خطبات محمود ۶۳۳ سال ۱۹۳۸ء کہ وہ تاریخ میں دخل دینا شروع کر دے۔تو تاریخ کا انکار اور ایسی تاریخ کا انکار جس کو غلط کی کہنے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو لوگوں کی نگاہ میں انسان کو گرا دیتا ہے۔حضرت یحیی علیہ السلام بھی ایک ایسے زمانہ میں ہوئے ہیں جو تاریخی زمانہ ہے اور اسی وقت سے کچھ نہ کچھ عیسائیت کی اور کی کچھ نہ کچھ یہودیت کی تاریخ مدون ہوتی نظر آتی ہے۔چنانچہ یہودیوں کا ایک ہی مؤرخ جو دنیا کے بڑے مؤرخین میں سے سمجھا جاتا ہے واقعہ صلیب کے بالکل قریب زمانہ میں پیدا ہوا ہے یعنی کی واقعہ صلیب کے ۲۶، ۲۷ سال بعد۔اس کا نام جوزیفس تھا اور چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ۳۳ سال کی عمر میں صلیب پر لٹکائے گئے تھے۔اس لئے ہمارے عقیدہ کے رو سے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر کے ۶۹ ویں یا سترھویں سال میں پیدا ہو ا تھا۔اور چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ہمارے نزدیک ایک سو بیس سال کی ہوئی ہے۔اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام جب فوت ہوئے ہیں اس وقت جوزیفس کی عمر پچاس یا ۱ ۵ سال کی کی تھی۔اور وہ اس وقت تک بہت بڑا مؤرخ بہت بڑا گورنر اور بہت بڑا جرنیل کہلا چکا تھا کیونکہ جو زیفس صرف مؤرخ ہی نہیں تھا بلکہ جرنیل بھی تھا اور گورنر بھی رہا ہے۔اور اسے صحیح واقعات معلوم کرنے کا پورا موقع حاصل تھا۔چونکہ وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے واقعہ کے صرف ۳۷ یا ۳۸ سال بعد پیدا ہوا ہے۔اس کے بلوغ اور جوانی کے وقت تک یقینا ابھی سینکڑوں ایسے لوگ زندہ ہوں گے جنہوں نے خود حضرت یحیی علیہ السلام سے بپتسمہ لیا ہوگا اور لاکھوں اس وقت کے حالات جاننے والے اور عینی شاہدوں سے سننے والے موجود ہوں گے۔آج غدر پر ۸۲ سال گزر چکے ہیں۔مگر کیا ۸۲ سال کے واقعہ پر کوئی شبہ کر سکتا ہے اور کہ سکتا ہے کہ غدر ہوا ہی نہیں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے غدر میں شمولیت کی اور وہ اُس وقت کے چشم دید واقعات بیان کرتے ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شخص میری بیعت کے لئے آئے ان کی باتوں سے مجھے یوں کی محسوس ہوا کہ وہ بہت بڑی عمر کے ہیں۔کیونکہ وہ پرانی پرانی باتیں بیان کرتے تھے۔میں نے ان سے کہا معلوم ہوتا ہے آپ کی عمر بہت بڑی ہے اور غالباً آپ اسی نوے سال کے ہوں گے وہ کہنے لگا۔اسی نوے سال؟ میری عمر تو ۱۴۱ سال کی ہے دس بارہ سال ہوئے گجرات سے