خطبات محمود (جلد 19) — Page 632
خطبات محمود ۶۳۲ سال ۱۹۳۸ ء جو بڑا بزرگ کہلاتا تھا کسی بادشاہ کا وزیر اتفاقاً اس کا معتقد ہو گیا اور اس نے ہر جگہ اس کی بزرگی اور ولایت کا پرو پیگنڈا شروع کر دیا ۔ اور کہنا شروع کر دیا ۔ کہ وہ بڑے بزرگ اور خدا رسیدہ انسان ہیں ۔ یہاں تک کہ اس نے بادشاہ کو بھی تحریک کی اور کہا کہ آپ ان کی ضرور زیارت کریں چنانچہ بادشاہ نے کہا اچھا میں فلاں دن اس کے پاس چلوں گا ۔ وزیر نے یہ بات فوراً اس بزرگ کے پاس پہنچا دی اور کہا کہ بادشاہ فلاں دن آپ کے پاس آئے گا آپ اس سے اس طرح باتیں کریں تا کہ اس پر اثر ہو جائے ۔ اور وہ بھی آپ کا معتقد ہو جائے ۔ معلوم نہیں وہ بزرگ تھا یا نہیں مگر بے وقوف ضرور تھا ۔ جب اسے اطلاع پہنچی کہ بادشاہ آنے والا ہے اور اس سے مجھے ایسی باتیں کرنی چاہئیں جن کا اس کی طبیعت پر اچھا اثر ہو تو اس نے اپنے ذہن میں کچھ باتیں سوچ لیں ۔ اور جب بادشاہ اس سے ملنے کے لئے آیا تو وہ کہنے لگا ۔ بادشاہ سلامت آپ کو انصاف کرنا چاہیے دیکھئے مسلمانوں میں سے جو سکندر نامی بادشاہ گزرا ہے وہ کیسا عادل اور منصف تھا اور اس کا آج تک کتنا شُہر ہ ہے ۔ حالانکہ سکندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے سینکڑوں سال پہلے بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی پہلے ہو چکا تھا مگر اس نے سکندر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا بادشاہ قرار دے کر اسے مسلمان بادشاہ قرار دے دیا۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی سینکڑوں سال بعد ہوا تھا ۔ کیونکہ سکند رخلافت اربعہ کے زمانہ میں تو ہو نہیں سکتا تھا ۔ کیونکہ اس وقت خلفاء کی حکومت تھی ۔ حضرت معاویہ کے زمانہ میں بھی نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اس وقت حضرت معاویہ تمام دنیا کے بادشاہ تھے ۔ بنو عباس کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس وقت وہی روئے زمین کے حکمران تھے پس اگر سکندر مسلمان تھا تو وہ چوتھی پانچویں صدی ہجری کا بادشاہ ہوسکتا ہے حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینکڑوں سال پہلے گزرا ہے۔ تو وہ جو سینکڑوں سال پہلے کا بادشاہ تھا اسے اس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی امت میں سے قرار دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ اس سے سخت بدظن ہو کر فوراً اُٹھ کر چلا گیا۔ تاریخ دانی بزرگی کے لئے شرط نہیں مگر یہ مصیبت تو اس نے آپ سہیڑی ۔ اسے کس نے کہا تھا