خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 63

خطبات محمود ۶۳ سال ۱۹۳۸ ء ہوں کہ جن علاقوں میں یہ رواج ہے کہ تھوڑا سا خشک سالن وہ چاولوں کے ساتھ استعمال کرنے کیلئے الگ پکاتے ہیں اور ایک پتیلی دال جو بالکل پانی کی طرح ہوتی ہے، الگ پکاتے ہیں تاکہ چاول گیلے ہو کر آسانی سے ہضم ہوسکیں ، انہیں پیلی دال استعمال کرنے کی اجازت ہے کیونکہ پیلی دال وہاں غذا نہیں سمجھی جاتی بلکہ غذا صرف خشک سالن اور چاول ہوتی ہے۔ یہ دال صرف غذا اس لئے ملائی جاتی ہے تا کہ چاول گیلے ہو جائیں اور انہیں نگلنے میں آسانی ہو۔ یہ استثناء اگرچہ میں نے پچھلے دور میں کر دیا تھا مگر اس دور میں میں پھر اس کو دُہرا دیتا ہوں ۔ مگر یہ شرط ہے کہ وہ دال پیلی دال تک ہی محدود ہو ۔ اگر اُس دال کو خود ایسا گاڑھا اور مرغن بنالیا جائے کہ وہ سالن کا کام دے سکے تو پھر اس کی اجازت نہیں ۔ خطوں میں تو مجھے یاد ہے لیکن یہ یاد نہیں کہ کسی خطبہ میں بھی میں بیان کر چکا ہوں یا نہیں کہ اچار اور چٹنی اگر سادہ ہو اور بطور مصالحہ یا ہا ضوم کے اسے استعمال کیا جائے تو کھانے کے ساتھ اس کا استعمال جائز ہے لیکن بعض ملکوں میں چٹنی بھی سالن کا قائمقام سمجھی جاتی ہے۔ پس جب چٹنی میں بھی تکلف کی کوئی صورت ہو اور سالن کے قائمقام سمجھی جاسکے تو پھر اس کے استعمال میں بھی احتیاط کرنی چاہئے ۔ ہر شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور فائدہ اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے جب انسان مُحبت اور حیلہ سازی سے کام نہ لے۔ اگر چٹنی اور اچار صرف چٹنی اور اچار کی حد تک ہی ہو اور اس کے استعمال کی غرض یہ ہو کہ ہاضمہ درست ہوا اور کھانا ہضم ہو جائے تو اس کا استعمال جائز ہے لیکن اگر وہ سالن کے قائمقام ہو تو پھر کسی دوسرے سالن کے ساتھ اس کا استعمال جائز نہیں ۔ اور یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں چٹنیاں ہی چٹنیاں بنا کر کھاتے ہیں ، کوئی الگ سالن استعمال نہیں کرتے۔ ایک دفعہ جب میں شملہ میں تھا تو ایک رئیس میری ملاقات کیلئے آئے ۔ اُن سے دورانِ گفتگو کہیں میں نے ذکر کر دیا کہ سنا ہے آپ کے وطن میں کھانے اور قسم کے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد مجھے اس بات کا کوئی خیال نہ رہا۔ اُنہوں نے میری دعوت کی ۔ جب میں ان کے ہاں پہنچا تو بات کا کوئی نہ ۔ میں کے ہاں پہنچاتو میں نے دیکھا کہ چھوٹی چھوٹی پیالیاں آنی شروع ہو گئیں جن میں مختلف قسم کی چٹنیاں تھیں ۔ ۔ میں نے ان چٹنیوں کو کچھ چکھا اور پھر چھوڑ دیا اور دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔ اب میں یہ انتظار کرتا رہا