خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 62

خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۳۸ء غرض میری یہ اجازت اس حالت کے لئے ہے جب غیر لوگ مہمان ہوں یا اپنے عزیزوں کی خاص دعوت ہو۔میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ کوئی اور سہولت دینا سوائے تکلف کے اور کوئی پیدا نہیں کر سکتا۔مثلاً اگر مہمان کیلئے تین چار کھانے پکائے جائیں تو میز بان کو مہمان کے ساتھ سب کھانے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اسے زیادہ سے زیادہ دو کھانے کھانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔اور اگر یہ ان کھانوں میں سے دو کھانے کھالے گا تو مہمان کو یہ اصرار نہیں ہوگا کہ ضرور تین کھانے کھاؤ۔مہمان کی طرف سے اُسی وقت اصرار ہوتا ہے جب یہ صرف ایک کھانا کھاتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں یہ عام دستور ہے کہ روٹی سالن ایک کھانا سمجھا جاتا ہے اور چاول دوسرا کھانا۔اب جب یہ صرف روٹی سالن پر اکتفا کرتا ہے اور چاول نہیں کھاتا تو مہمان کو یہ بات چھتی ہے لیکن اگر یہ روٹی سالن بھی کھا لے اور چاول بھی کھالے تو مہمان یہ اصرار نہیں کرے گا کہ اب ضرور فلاں چیز بھی کھاؤ۔کیونکہ وہ خیال کرے گا کہ جو چیز ا سے پسند تھی اس نے کھالی اگر فلاں چیز یہ نہیں کھانا چاہتا تو نہ کھائے۔پس چونکہ صرف روٹی سالن کھانے سے ایک امتیاز معلوم ہوتا ہے اور مہمان کو یہ بات چھتی ہے اس لئے دوسرا کھانا کھانے کی بھی اجازت ہے۔اس طرح میں سمجھتا ہوں مہمان پر اس کا طریق عمل گراں نہیں گزرے گا کیونکہ جب مثلاً دستر خوان پر دو سالن ہوں گے اور یہ صرف ایک سالن استعمال کرے گا تو وہ خیال کرے گا کہ اس نے ایک سالن تو استعمال کر لیا دوسرا نہیں کیا تو نہ کرے۔کیونکہ ایک سالن دوسرے سالن کا قائمقام ہو جاتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ملک میں روٹی چاول کا قائمقام نہیں سمجھی جاتی اس لئے مہمان کو یہ امر چُبھتا ہے کہ میزبان نے مثلاً خالی چاول کھائے ہیں یا صرف روٹی کھائی ہے اور اسے بھی دوسری اشیاء استعمال کرنے میں حجاب ہوتا ہے۔ہاں ایک اور استثناء میں گزشتہ سالوں میں کر چکا ہوں وہ قائم ہے اور وہ رسمی یا حکام کی دعوتوں کے متعلق ہے۔ایسی دعوتوں میں ایک سے زیادہ کھانے کھانا یا کھلا نا جو ملک کے رواج کے مطابق ضروری ہوں جائز رکھا گیا تھا اور اب بھی جائز ہے۔بعض ملکوں میں جیسے بنگال اور بہار کے علاقے ہیں چاولوں کے ساتھ ایک پتیلی دال پکاتے ہیں جس کی غرض محض چاولوں کو گیلا کرنا ہوتی ہے۔اس کی اجازت میں پچھلے دور میں دے چکا ہوں اور اس دور میں پھر اس کو دُہرا دیتا کی