خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 624

خطبات محمود ۶۲۴ سال ۱۹۳۸ء نہ آسکیں گے اور اس وجہ سے اُس کی طرف توجہ ہی نہیں کریں گے تو اللہ تعالی ان باتوں کا بھی خیال کی رکھتا ہے تا لوگ ضد نہ کریں کیونکہ یہ ضروری ہے ورنہ نفرت کی وجہ سے بہت سے لوگ ہدایت سے محروم رہ جائیں۔پس صلیب پر لٹکانے سے حضرت مسیح ناصری کا بچانا اس نفرت کو دور کر نے کے لئے تھا نہ اس لئے کہ واقع میں صلیب پر لٹک کر انسان لعنتی ہو جاتا ہے خواہ مجرم ہو یا نہ ہو۔ہر نظمند سمجھ سکتا ہے کہ یونہی اگر کسی کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو وہ ملعون نہیں ہوسکتا۔کوئی شخص شریف ہے، بے گناہ ہے، خدمت خلق کرتا ہے، نیکی کے دوسرے کام کرتا ہے لیکن چور اور ظالم لوگ آ کر اسے پھانسی دیتے ہیں تو کیا وہ ملعون ہو جائے گا ؟ انسانی فطرت اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ اگر کسی بے گناہ کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو وہ ملعون ہو جائے گا۔پس یا تو یہ مانو کہ کوئی بے گناہ پھانسی پر لٹکایا جا ہی نہیں جا سکتا جو نبی کوئی چورا سے پکڑ کر پھانسی پر لٹکانے لگے تو فرشتے جھٹ سے آکر اسے اتار دیں گے اور چھین کر لے جائیں گے اور اس طرح صلیب پر کوئی غیر مجرم لٹکایا ہی نہیں جا سکتا یا پھر یہ مانو کہ محض پھانسی پر لٹکانے سے کوئی شخص ملعون نہیں ہوسکتا۔غرض یا تو مج یہ ماننا پڑے گا کہ کسی یہودی مؤمن کو کوئی صلیب پر لٹکا سکتا ہی نہیں جس طرح دعائے گنج العرش کے متعلق مشہور ہے جو اسے پڑھے نہ تو اس کو آگ جلا سکتی ہے ، نہ اس کو سمندر ڈبو سکتا ہے، نہ پہاڑ پر سے وہ گر سکتا ہے۔چنانچہ دعائے گنج العرش کی بابت لکھا ہے کہ کسی چور کو بادشاہ نے پھانسی دیے جانے کا حکم دیا مگر رسی کھنچتے ہیں تو وہ کھنچتی ہی نہیں۔بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ وہ کی پھانسی سے نہیں مرتا اس کی گردن ہی نہیں دیتی تو اس نے اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دیا مگر جب آگ میں ڈالا تو دیکھا کہ وہ آگ سے کھیل رہا ہے۔جب اس کی بادشاہ کو اطلاع ہوئی تو اس کی نے سمندر میں پھینک دینے کا حکم دیا مگر جب پتھروں سے باندھ کر اسے سمندر میں پھینکا گیا تو وہ کارک کی طرح تیرنے لگا، آخر اسے پہاڑ سے گرانے کا حکم دیا گیا مگر جب پہاڑ سے گرایا گیا تو کی یوں معلوم ہوا کہ کسی نے اسے پکڑ کر آرام سے زمین پر رکھ دیا ہے اور اسے ذرہ بھی چوٹ نہ آئی۔بادشاہ کو اطلاع ہوئی تو اس نے کہا کہ یہ تو کوئی ولی اللہ ہے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں آپ کو چور سمجھا ، آپ تو ولی اللہ ہیں مگر اس نے کہا کہ نہیں میں ولی اللہ نہیں چور ہی ہوں صرف بات یہ ہے کہ دعا گنج العرش پڑھتا ہوں۔تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ