خطبات محمود (جلد 19) — Page 61
خطبات محمود ۶۱ سال ۱۹۳۸ء مطلب یہ نہیں کہ ہر جمعہ کو ضرور ایک سے زائد کھانے پکائے جائیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی ایسی تقریب ہو جب رشتہ دار یا دوست احباب جمع ہوں یا کوئی مہمان آئے ہوئے ہوں تو ان کی خاطر اگر دوکھانے پکالئے جائیں تو جائز ہوگا۔اس استثناء کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے دوستوں نے شکایت کی ہے کہ ہمارے پنجاب اور ہندوستان میں چاول نیم غذا ہے جس کا کبھی کبھی کھانا صحت کے لحاظ سے اور ملک کی آب و ہوا کے لحاظ سے ضروری ہوتا ہے۔مگر اس حکم سے کہ ایک کھانا کھایا جائے ہم چاول کو بالکل ترک کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ صرف چاول کھانے کی عادت نہیں ہوتی اور کی روٹی سالن کے علاوہ اگر چاول کھائیں تو وہ دوکھانے ہو جاتے ہیں۔پس ایک کھانا کھانے کی وجہ سے یہ جو دقت پیدا ہو گئی تھی کہ لوگ روٹی ہی کھاتے تھے چاول نہیں کھا سکتے تھے حالانکہ چاولوں کا کبھی کبھی کھانا ہماری ملکی آب و ہوا کے لحاظ سے ضروری ہے اس استثناء سے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔اور وہ لوگ جو شکایت کیا کرتے ہیں کہ ایک کھانا کھانے کا حکم دے کر چاول کی غذا بالکل بند کر دی گئی ہے انہیں اطمینان ہو جائے گا اور وہ جمعہ کے دن حسب خواہش روٹی کے علاوہ چاول بھی کھاسکیں گے۔دوسرا استثناء جو میں کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دعوتوں کے موقع پر میں نے پہلے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر اپنا ہی کوئی احمدی دوست مہمان ہو تو دسترخوان پر میزبان صرف ایک ہی کھانا کھائے۔لیکن اگر کوئی غیر مہمان ہو تو اس کے ساتھ ایک سے زائد کھانے کھا سکتا ہے۔اس کے کی متعلق بعض دوستوں نے شکایت کی ہے کہ یہ پابندی بہت مشکلات پیدا کرتی ہے کیونکہ جب مہمان وہ کھانے کھا رہا ہو اور ہم صرف ایک ہی کھانا کھا ئیں تو یہ امر مہمان پر بہت شاق گزرتا ہے۔پس آئندہ کیلئے میں اس پابندی کو بھی دور کرتا ہوں اور اس امر کی اجازت دیتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا مہمان ہو جس کیلئے ایک سے زائد کھانے پکائے گئے ہوں تو اس صورت میں خود بھی کی دو کھانے کھانے جائز ہوں گے مگر شرط یہ ہے کہ کوئی غیر مہمان ہو۔یہ نہ ہو کہ اپنے ہی رشتے دار بغیر کسی خاص تقریب کے اکٹھے ہوں اور ان کیلئے (جمعہ کے استثناء کے علاوہ ) ایک سے زائد کھانے تیار کر لئے جائیں اور خود بھی دو دو کھانے کھالئے جائیں۔