خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 606

خطبات محمود ۶۰۶ سال ۱۹۳۸ تو شاید ان کا نام و نشان بھی مٹ جائے۔ہر طرف سے ان پر لعنت و پھٹکار پڑتی ہے اور ایک ہی چیز ان کے لئے موجب تسکین و تسلی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں۔باپ بیٹے پر لعنت کرتا ہے ، بھائی بھائی پر ، بیوی خاوند پر اور خاوند بیوی پر ، دوست دوست پر ، غرض اس قدر گالیاں ان کو دی جاتی ہیں، اس قدر بد دعا ئیں ان کے لئے کی جاتی ہیں ، اس قدر بُرا کہا جاتا ہے اور ان کو اس قدر حقیر سمجھا جاتا ہے کہ اگر انسانوں کی زبانوں میں تاثیر ہوتی تو وہ جل کر راکھ ہو جاتے مگر ان کا اللہ تعالی پر توکل ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر بھائی گیا ہے تو جائے ، بیوی گئی ہے تو جائے ، اگر ماں باپ گئے ہیں تو جائیں، دوست جاتے ہیں تو جائیں، ایک ہی چیز ان کے پاس ہوتی ہے اور وہ ان کا خدا ہوتا ہے۔پس اگر ہم روحانیت کو پورے طور پر اور ایسے طور پر نہ پکڑیں جیسے انسان ڈوبتے وقت کسی سہارے کو پکڑتا ہے اور کسی صورت میں اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تو پھر ہماری بدبختی کی کوئی حد نہیں ہوگی اور ہماری مثال وہی ہوگی : نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ہم چونکہ اللہ تعالی کے مامور کی جماعت ہیں اور یہ سب باتیں ہم نے دیکھی اور دیکھ رہے ہیں سنی اور سن رہے ہیں محسوس کی ہیں اور محسوس کر رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ہمارا تو کل نہ ہوتا تو جس قسم کا گند ہمارے خلاف اچھالا جا رہا ہے اس کا سواں حصہ بھی اگر ایسے شخص کے متعلق اچھالا جائے جس کا تو کل اللہ تعالیٰ پر نہ ہو تو وہ مرجائے۔اگر نہ مرے تو جنگلوں اور غاروں میں چلا جائے تاکہ کسی کو منہ نہ دکھا سکے اور محض اللہ تعالی پر تو کل ہی ہے جو ہمیں دنیا کو منہ دکھانے کی طاقت دیتا ہے اور اس کی آواز ہمارے کانوں میں آتی اور کہتی ہے کہ تم یہ گالیاں میری خاطر سنتے ہو پس سنو اور برداشت کرو اور صبر کرو۔ورنہ جو کچھ ہمیں کہا جاتا ہے اسے کوئی چوہڑا اور سانسی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔یہ تو نہیں کہ ہمارے دل نہیں۔ہمارے بھی دل ہیں، ہمارے بھی جذبات ہیں، ہم بھی غیر تیں رکھتے ہیں اور ہمارے اندر بھی شرم و حیا کا مادہ ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم