خطبات محمود (جلد 19) — Page 589
خطبات محمود ۵۸۹ سال ۱۹۳۸ء کہ کوئی نماز سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نہیں ہوتی اس کے مطابق ہمیں تسلیم کرنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص رکوع میں آکر جماعت میں شامل ہو جائے تو اس کی وہ رکعت نہ ہو کیونکہ اس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ہوگی۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فتویٰ موجود ہے کہ با جماعت نماز میں رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت ہو جاتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں لکھا ہے لا بيع فيه وَلَا خُلة ولا شفاعة ۲۲ کہ قیامت کے روز نہ کوئی بیع ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ شفاعت ہوگی۔حالانکہ قرآن کریم کے بعض اور مقامات میں اور احادیث میں بھی شفاعت کا ذکر آتا ہے تو بعض دفعہ ایک بات عام قاعدہ کے رنگ میں بیان کی جاتی ہے حالانکہ اس میں مستثنیات بھی ہوتے ہیں اور جب عام قاعدہ کے علاوہ کسی استثنیٰ کا بھی صراحنا ذکر موجود ہو تو پھر قیاس کے کیا معنے ہو سکتے ہیں۔اس طرح تو پیغامی بھی استدلال کر لیا کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں قرآن کریم کی سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِّن ذَكَرٍةٌ أنثى - ۲۳ اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔اس آیت کے ہوتے ہوئے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی شخص بن باپ پیدا ہو سکے۔ہم جب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو وہ کہتے ہیں دیکھو قرآن کریم میں صراحتاً یہ آیت موجود ہے کہ ہم مرد اور عورت سے انسان کو پیدا کیا کرتے ہیں۔پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی بغیر باپ کے پیدا ہو جائے۔ہم اس کے جواب میں یہی کہا کرتے ہیں کہ عام اصول تو یہی کی ہے مگر جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کا استثناء بھی کر دیا اور اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو بن باپ تسلیم کیا تو وہ استثناء اس عام گلیہ میں شامل کس طرح ہو سکتا ہے۔ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کی دو آنکھیں اور دو ہاتھ ہوتے ہیں۔اب کو ئی شخص کسی اندھے کو پکڑ کر ہمارے سامنے لا کر کھڑا کر دے اور کہے تم جھوٹ بولتے ہو اس کی تو دو آنکھیں نہیں یا کسی لنجے کو پکڑ کر ہمارے سامنے لے آئے اور کہے تم کس طرح کہتے ہو ہر انسان کے دو ہاتھ ہوتے ہیں۔اس کے تو کوئی ہاتھ نہیں۔تو ہم اسے یہی کہیں گے کہ جب ہم نے یہ کہا تھا کہ ہر انسان کی دو آنکھیں ہوتی ہیں یا ہر انسان کے دو ہاتھ ہوتے ہیں تو یہ فقرہ ہم نے اس استثناء کو تسلیم کر کے کہا تھا۔تو اگر بعض مستثنیات ثابت ہوں تو کلیہ ہمیشہ مستثنیٰ کے تابع ہوگا نہ کہ متقی گلیہ کے تابع ہوگا۔