خطبات محمود (جلد 19) — Page 571
خطبات محمود ۵۷۱ سال ۱۹۳۸ ء حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید کئے گئے تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خبر دینے والے حضرت سید احمد صاحب بریلوی بھی شہید ہوئے اب یہ روایت مجھے اچھی طرح یاد ہے اور یہ صرف میری روایت ہی نہیں بلکہ بعض اور صحابہ کی بھی ہے ۔ چنانچہ ابھی جبکہ میں جمعہ پڑھانے کے لئے آ رہا تھا ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالند ہری نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں مجھے ایک رقعہ دیا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں اللہ جَلَّ شَأْنُه کی قسم کھا کر لکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو مرتبہ مسجد مبارک میں فرمایا ( گویا کہ میں اب بھی آپ کو بولتے سنتا ہوں ) کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ محمد یہ کو سلسلہ موسویہ کے تقابل کے طور پر قائم کیا ہے ۔ سلسلہ موسویہ کے اوّل نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں اور ان کے آخری خلیفہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں ۔ اسی طرح سلسلہ محمدیہ کے بانی حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کا آخری خلیفہ (حضرت مسیح موعود ہے۔ پس ایسے سلسلہ کا اول نبی اور اس کا آخری خلیفہ قتل نہیں ہو سکتا ورنہ حق مشتبہ ہو جائے ۔ ہاں درمیان میں اگر کوئی نبی قتل ہو بھی جائے تو اس سے تو تقول 2 کے اصل پر کہ سچا نبی قتل نہیں ہو سکتا ز دنہیں پڑتی ۔ اور فرمایا کہ ایک امر تشبیہہ کا یہ بھی ہے کہ جس طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ حضرت عیسیٰ سے پیشتر قتل ہوئے اسی طرح میری بعثت یا آمد سے پیشتر حضرت سید احمد صاحب بریلوی شہید ہوئے ۔ پھر فرمایا کہ حضرت سید احمد صاحب بریلوی اور اسمعیل شہید میرے لئے بطور ا رہاص تھے ۔ جیسے حضرت یحیی حضرت عیسی کے لئے بطور ا رہاص تھے ۔ یہ بعینہ وہی روایت ہے جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے سُنی اور یہ بھی میرے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے طور پر اُنہوں نے لکھ کر مجھے بھیجی ہے۔ جب صبح میں نے میر محمد الحق صاحب سے اس کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے مجھے روایت تو کوئی یاد نہیں لیکن یہ میں کہہ سکتا ہوں کہ شروع سے یہی عقیدہ سمجھتے آئے ہیں ۔ حضرت خلیفہ اول کا بیشک پہلے یہ خیال تھا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید نہیں ہوئے اور آپ اپنی مجالس میں بھی یہ بات بیان کیا کرتے تھے مگر بعد میں آپ نے اس سے رجوع کر لیا تھا ۔ یہ عجیب بات ہے کہ حضرت خلیفہ اول وہی دلائل