خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 552

خطبات محمود ۵۵۲ سال ۱۹۳۸ء نہیں پہنچا سکے گی تو وہ کہیں گے کہ اوہو! ہم جماعت کو اس لئے بگاڑ نہیں سکے کہ وہ خلافت کی وجہ سے متحد ہے۔اگر ہم خلافت کا انکار کر دیں تو اس کا منتشر ہونا بالکل آسان بات ہے۔پس وہ خلافت مٹانے کے درپے ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے حضرت خلیفہ اول کی خلافت پر بھی حملہ کرتے ہیں اور اس طرح میرے کپڑوں کو آگ لگنے کے بعد آپ کے کپڑوں کو بھی آگ لگ جاتی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میں نے اس آگ کو بھی بجھا دیا۔یعنی آپ کی خلافت سے بھی وہ لوگوں کو منحرف نہیں کر سکیں گے۔تب وہ ایک اور قدم آگے بڑھیں گے اور کہیں گے اصل میں محض خلیفہ ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ نہیں بلکہ اس وجہ سے ہیں کہ ان کے دلوں میں یہ غلط خیال بیٹھ چکا ہے کہ یہ مصلح موعود ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان کے متعلق کئی پیشگوئیاں ہیں۔پس آؤ ہم ان تمام پیشگوئیوں کا ہی انکار کر دیں اور کہہ دیں کہ ان کا مصداق ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہیں جن کے متعلق میں نہ ہاں کرتا ہوں نہ نہ کرتا ہوں مگر جو پیشگوئیاں مجھ پر چسپاں ہوتی ہیں اُن کا انکار کی کرنا بھی دیانت اور انصاف کے قطعاً خلاف ہے مگر وہ سرے سے تمام پیشگوئیوں کا انکار کر یتے ہیں اور کہتے ہیں کوئی پیشگوئی ہے ہی نہیں۔اس طرح ان کے حملہ کی زدحضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی جا پڑتی ہے اور انہیں کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے جس قدر میرے متعلق پیشگوئیاں کیں وہ نعوذ باللہ جھوٹی نکلیں، اس طرح جو دعائیں کیں وہ پوری نہ ہوئیں اور آپ نے غلط لکھی دیا کہ میری دعائیں اللہ تعالیٰ نے سن لی ہیں۔پس وہ مجھ پر حملہ کرتے مگر اس کے ساتھ ہی حضرت خلیفہ اول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی حملہ کر دیتے ہیں اور اس طرح میری ہتک کرتے کرتے ان کی بھی ہتک کر دیتے ہیں جن کو یہ اپنا پیشوا ما نا کرتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات کی ہے جیسے پیغامیوں نے جب مجھ پر اعتراض کرنے شروع کئے تو رفتہ رفتہ ان کے اعتراضات کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی ہونے لگے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک پیغامی نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو جو ظلی نبی کہا ہے اس کے معنے کوئی اصلی نبی کے تھوڑے ہی ہیں ظل کا کیا ہوتا ہے ظل پر تو ( نَعُوذُ بِالله ) جوتے مارنے بھی جائز ہوتے ہیں۔پھر یہاں تک کہہ دیا کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت بن باپ کو تسلیم کرتا ہے وہ مشرک اور بے وقوف۔