خطبات محمود (جلد 19) — Page 530
خطبات محمود ۵۳۰ سال ۱۹۳۸ ء دشمنوں کے یہ کہنے کا کیا مطلب تھا کہ ہمیں کوئی معجزہ دکھاؤ۔ خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مطالبہ حضرت مسیح سے انہوں نے آخری زمانہ میں کیا ہے۔ اگر واقع میں وہ ایسے ہی معجزے دکھایا کرتے تھے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ تم مجھ سے یہ معجزات کا بار بار کیوں مطالبہ کرتے ہو میں نے اتنے اندھوں کو آنکھیں دیں ، اتنے لنگڑوں کو تندرست کیا ، اتنے ٹولوں کو اچھا کیا اس سے بڑھ کر تمہیں اور کیا معجزہ چاہئے مگر وہ یہ جواب نہیں دیتے بلکہ جواب یہ دیتے ہیں کہ اس زمانہ کے بُرے اور حرامکار لوگ مجھے سے نشان طلب کرتے ہیں مگر وہ یا د رکھیں کہ انہیں یونس نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہیں دیا جائے گا کے یعنی اب تمہارے رے لئے یہی معجزہ ہوگا کہ تم میرے قتل کی تدبیریں کرو گے ، مجھے صلیب پر لٹکا کر مجھے ملعون ثابت کرنا چا ہو گے ، مگر میرا خدا مجھے صلیب سے بچالے گا اور جس طرح یونس مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکلا اسی طرح میں بھی صلیب پر سے زندہ اتروں گا اور یہی تمہارے لئے معجزہ ہوگا اس کے سوا اور کوئی نشان تمہیں نہیں دکھایا جائے گا۔ اگر واقع میں وہ اندھوں کو ظاہری آنکھیں دے دیا کرتے تھے ، کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے تھے ، لولوں اور لنگڑوں پر ہاتھ پھیرتے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے تو وہ ہزاروں آدمیوں کو اپنے معجزات کے ثبوت میں پیش کر سکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ اتنے ہزار اندھوں کو میں نے بینا بنایا ،اتنے ہزار گولوں کو میں نے تندرست کیا ، اتنے ہزار لنگڑوں کو میں نے اچھا کر کے کام کے قابل بنایا۔ مگر اناجیل میں باوجود ایسی عبارتوں کے موجود ہونے کے جن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت مسیح نے اندھوں کو بینا کیا ،ٹولوں اور لنگڑوں کو اچھا کیا، پھر وہ یہود مروہ یہودی پوچھتے اور کہتے ہیں کہ کوئی معجزہ دکھاؤ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ظاہری اندھوں کو بینا کرنے یا ظاہری مُردوں کو زندہ کرنے یا ظاہری ٹولوں اور لنگڑوں کو اچھا کرنے کا ذکر نہیں بلکہ روحانی مردوں کے احیاء اور روحانی بیماروں کے اچھا ہونے کا بیان ہے اور روحانی مُردہ کے زندہ ہو۔ کے اندر ایمان ہ ہونے یا روحانی اندھے کے بینا ہونے کو کون تسلیم کرتا ہے۔ صرف وہی لوگ جن کے ان ہوتا ہے سمجھتے ہیں کہ ایک شخص پہلے روحانی لحاظ سے مردہ تھا مگر پھر زندہ ہو گیا، پہلے روحانی لحاظ سے اندھا تھا مگر پھر بینا ہو گیا ، مگر دشمن تو اس امر کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ دشمن تو یہ کہتا ہے کہ پہلے یہ زندہ تھے اب مر گئے ہیں، پہلے یہ بینا تھے اور اب اندھے ہو گئے ہیں۔ پہلے یہ تندرست تھے