خطبات محمود (جلد 19) — Page 528
خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۸ ء اسے دوسروں کی مثالوں کو پیش کرنا پڑتا ہے کیونکہ اگر اس کا فعل قابلِ اعتراض ہوگا تو دوسروں کے افعال کو بھی قابلِ اعتراض قرار دینا پڑے گا اور اگر دوسروں کے افعال کو درست سمجھا جائے گا تو اس کے کسی ویسے ہی فعل پر اعتراض کرنا بھی نا جائز ہوگا ۔ بہر حال جن اصول کو وہاں تسلیم کیا جائے گا ان اصول کو یہاں بھی تسلیم کیا جائے گا مگر ان کا جواب یہ ہوتا کہ عوام الناس کو بھڑ کا دیتے اور کہتے مرزا صاحب انبیاء کی ہتک کرتے ہیں ۔ آتھم کا جن دنوں مباحثہ تھا عیسائی ایک دن شرارت کر کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو جوش دلانے اور ہنسی مذاق کی ایک صورت پیدا کرنے کے لئے کچھ اندھے ، ٹولے اور لنگڑے جمع کر کے لے آئے اور انہیں ایک گوشہ میں چھپا کر بٹھا دیا اور تجویز یہ کی کہ ہم مرزا صاحب سے کہیں گے کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں اور حضرت مسیح اندھوں کو بینا کیا کرتے تھے لنگڑوں اور ٹولوں پر ہاتھ پھیرتے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے ۔ اب ہم نے آپ کو تکلیف سے بچا لیا ہے اور یہ کچھ ٹولے لنگڑے اور اندھے جمع کر کے لے آئے ہیں آپ بھی ان پر ہاتھ پھیریں اور انہیں اچھا کر کے دکھائیں ، اگر آپ کے معجزہ سے یہ اچھے ہو جائیں گے تو ہم آپ کو اپنے دعوی میں سچا مان لیں گے۔ میں تو اس وقت بچہ تھا شاید پانچ یا چھ سال میری عمر ہو گی مگر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے اور بعض دوسروں سے بھی جو اس واقعہ کے عینی شاہد تھے میں نے تمام باتیں سنی ہیں ۔ آپ فرماتے جب ہم نے یہ بات سنی تو ہم سخت گھبرائے اور ہم نے کہا بس اب بڑی ہنسی ہوگی ، جواب تو خیر دیا ہی جائے گا مگر عوام الناس میں اس کی وجہ سے بڑا جوش پیدا ہو جائے گا لیکن جس وقت انہوں نے اس امر کو پیش کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا جواب لکھوانا شروع کیا تو دیکھنے والے (بقیہ حاشیہ : - ) میں جن باتوں کے متعلق ضروری سمجھتا ہوں خطبہ پڑھ دیتا ہوں ۔ آخران چند منافقوں کے لئے قرآن کریم میں کثیر آیات اُتری ہیں میرے تو سارے خطبے ایک آیت کی برابری نہیں کر سکتے ۔ ایک صاحب نے یہ لکھا ہے کہ لوگوں کو شبہ پیدا ہوا ہے کہ یہ خط صلاح الدین رشید کا اپنا ہے اس کا ازالہ کیا جائے ۔ میں اس کا بھی ازالہ کرتا ہوں کہ یہ صلاح الدین صاحب رشید کا خط نہیں۔ کیونکہ جب وہ قادیان سے باہر تھے تب بھی ایسے خط قادیان کی مہر سے ملتے رہتے تھے۔ ان کے دوستوں میں سے کوئی ہو یا نہ ہو یہ تو اللہ تعالیٰ جانے مگر ان کا خط یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ منہ