خطبات محمود (جلد 19) — Page 520
خطبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۸ ء کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور منافقت کی بنیاد ہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ کے ذکرِ الہی انسان کے اندر بری باتوں سے ڈر پیدا کرتا ہے ذکر الہی کرنے والا ہمیشہ بیہودہ اور لغو مذاق سے بچتا ہے۔ پس آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں نہ صرف الوہیت کے بلکہ وہ فرائض بھی ادا کرنے کا پورا پورا احساس ہونا چاہئے جو مخلوق ہونے کی حیثیت میں ہم پر عائد ہوتے ہیں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مرکب بنایا ہے اس پر ربوبیت کی چادر بھی ڈالی گئی ہے اور یہ مخلوق بھی ہے ربوبیت کی چادر اسے اعلیٰ کمالات پر لے جانے کے لئے ہے لیکن جب تک نقائص دور نہ ہوں ، ترقی ممکن نہیں ۔ اعلیٰ مقام پر پہنچنا کیسے ہو سکتا ہے۔ تم میلوں لمبا غبارہ بنا دو اور اس میں گیس بھی بھر دو لیکن اس میں دو چھوٹے چھوٹے سوراخ بھی اگر کر دو تو وہ اوپر نہیں جا سکے گا۔ اسی طرح جس شخص کی ذات میں کمزوریاں اور نقائص ہیں ، وہ تو چھاج ہے، غربال شے ہے جس میں سے روحانیت نکل جائے گی ۔ روحانی چیزیں تو ایسی باریک اور لطیف ہوتی ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے سوراخ سے بھی بہہ جاتی ہیں ۔ پس جب تک ان سوراخوں کو بند نہ کیا جائے کوئی فائدہ نہیں ۔ مخلوق ہونے کے لحاظ سے جو باتیں ہم پر فرض ہیں تکمیل کے لئے ان کا پورا کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ بیہودہ بنسی مخول اور نمازوں میں سستی کو ترک کر دو ، پابندی کے ساتھ نمازیں پڑھو ، ذکر الہی کرو، روزے با قاعدہ رکھو، پھر طوعی روزے بھی رکھو ، اپنے نفس کی اصلاح کے لئے جاگنے کی عادت ڈالو اور اس پر بوجھ ڈالو۔ ان باتوں سے صحیح تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس سے ترقی کر کے ربوبیت کا مقام آتا ہے اور یہی صحیح طریق ترقی کرنے کا ہے ۔ ورنہ جو شخص سوراخ بند کرنے کے بغیر غبارہ میں گیس بھرتا ہے وہ اسے بلندی پر پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس کی گیس باہر نکل جائے گی ۔ پس ان دونوں حصوں کو مکمل کرو تا تمہارا نفس مکمل ہو اور تا تمہیں روحانی گیس او پر اٹھا سکے ۔ اسی کی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے کہ والْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه ، عمل صالح یعنی بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی نیکیاں اسے اوپر اٹھاتی ہیں اور گیس کا کام دیتی ہیں جو عمل بیرونی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں وہ الوہیت کا چندہ ہیں اور جو اپنی ذات کے لئے ہیں