خطبات محمود (جلد 19) — Page 519
خطبات محمود ۵۱۹ سال ۱۹۳۸ء اس کے اندر کیا باریکیاں ہیں اور پھر اگر دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی حصہ ایسا ہے جس کا جواب کوئی نہیں اور وہ سچ ہے تو اسے مان لیتا ہے ، تو اس سوال کا جواب اسے ضرور قرآن کریم سے مل جائے گا۔پس صحیح فکر نہایت ضروری چیز ہے۔اسی سے صحیح ہدایت پیدا ہوتی ہے اور یہی نفس کا چندہ ہے اور جو اس کی عادت نہیں ڈالتا وہ اپنے نفس کو بھوکا مارتا ہے۔اسی طرح روزہ انسان کے نفس کو ترقی دینے والی چیز ہے اور ہما را صرف یہ فرض نہیں کہ دوسروں سے کہیں روزے رکھو بلکہ یہ ہے کہ خود بھی رکھیں مگر بہت کم لوگ ہوں گے جو روزے کی فرضیت کے قائل ہوں گے۔تم کہو گے کہ یہ بات صحیح نہیں۔اکثر لوگ اس کی فرضیت کے قائل ہی ہیں لیکن میں پوچھتا ہوں کہ جن لوگوں کے روزے رمضان میں رہ جائیں ،ان میں سے کتنے پھر سال کے دوران بقیہ روزے رکھتے ہیں۔یقیناً ایک بڑی تعداد نہیں رکھتی۔خصوصاً عورتیں جو رمضان میں خاص ایام یا خاص حالات کی وجہ سے روزے نہیں رکھتیں وہ بہت کم بعد میں ان کی روزوں کو پورا کرتی ہیں۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں یہ خیال ہے کہ روزہ کی فرضیت صرف رمضان میں ہے ، حالانکہ یہ صحیح نہیں یہ سارے سال میں ہے۔اور جو لوگ کسی وجہ سے رمضان میں روزے نہ رکھ سکیں ان کو سال کے دوسرے دنوں میں پورے کرنے چاہئیں لیکن بہت کم لوگ ایسا کرتے ہیں حالانکہ نفس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔اور ایک اہم فرض بلکہ عبودیت کے لحاظ سے نہایت ہی اہم فرض ہے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے تبلیغ بہت ضروری چیز ہے مگر یہ الوہیت کا فرض ہے ، عبودیت کا فرض وہ ہے جو انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہو مگر لوگ الوہیت کے اس فرض یعنی تبلیغ کو تو ادا کریں گے لیکن عبودیت کا فرض نظر انداز کر دیں گے۔نمازوں میں سُستی کرتے ہیں، ذکر الہی کا رواج بھی لوگوں میں بہت کم ہے، جو دوست مسجد میں پہلے آ جاتے ہیں وہ لغو باتوں میں مصروف رہتے ہیں اور اس طرح مل کر وقت ضائع کرتے ہیں اور اسی کے نہ ہونے سے طبائع میں شوخی ہوتی ہے۔میرا تجربہ ہے کہ ذکر الہی نفس کی شوخی کو دور کرتا ہے اور اس کی کثرت تمسخر اور استہزاء سے بچاتی ہے۔بعض لوگوں میں یہ عادت بد ہوتی ہے کہ وہ تمسخر کے رنگ میں قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھ دیتے ہیں۔یا دین کے کسی معاملہ میں جنسی کر دیتے ہیں، یا کسی بزرگِ دین کے ذکر پر استہزاء سے کام لیتے ہیں یہ سب باتیں ذکر الہی