خطبات محمود (جلد 19) — Page 518
خطبات محمود ۵۱۸ سال ۱۹۳۸ مشرق کی طرف بھاگنے لگے تو ہمیں بھی چاہئے کہ اپنا رُخ بدل لیں اور اگر نہ بدلیں گے تو تمام دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی۔تو انسانی حالات بھی بدلتے رہتے ہیں اور جب دوست کی حالت کی میں تبدیلی ہو گئی تو اسے چاہئے کہ اس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی کرے اور اگر یہ نہیں بدلتا تو یہ اس کی بیماری کی علامت ہے۔منافقت میں ترقی اور منافقت کی ترقی بھی صحیح فکر نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔منافق اس سے فائدہ اٹھاتا اور دوسروں کو بھی اس مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔یہ شکار ایسے ہی لوگ بنتے ہیں جو کسی کو اس کی نیکی کی وجہ سے دوست بناتے ہیں اور پھر کبھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس کی نیکی میں کوئی فرق آیا ہے یا نہیں حالانکہ کسی کے متعلق کبھی یہ اطمینان نہیں ہو سکتا کہ اُس کی حالت یکساں رہے گی۔جس چیز کے متعلق ہم مطمئن ہو سکتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کے لئے اس نے فرما دیا ہے کہ یہ نہیں بدلتا اور اس کے بغیر اگر کسی کے متعلق کوئی شخص مطمئن ہے تو ہو سکتا ہے کہ ایک دن وہ خود بھی کسی مرض میں مبتلا ہو جائے۔پس نفس انسانی کا چندہ صحیح فکر ہے۔ہر چیز کو اس ذریعہ سے دیکھو جو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔تمام علوم کی ترقی صحیح فکر سے ہوتی ہے۔جو لوگ صحیح فکر کے عادی نہیں ہوتے وہ خود بھی گمراہ ہوتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔کل ہی ایک نو جوان مبلغ میرے پاس آئے اور کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔میں نے کہا کہ میری نصیحت یہی ہے کہ صحیح فکر کی عادت ڈالو۔میری ذاتی کوشش یہی ہوتی ہے کہ دشمن کی بات کو یونہی غلط نہ قرار دے دوں بلکہ اگر وہ سچی ہو تو اسے سچی کہ دیتا کہوں اور غلط ہو تو اسے غلط اور اس وجہ سے جب میں غور کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے یہ توفیق دی ہے کہ اس کی تہہ کو پہنچوں اور بسا اوقات میں دیکھتا ہوں کہ وہ اتنی بُری نہیں ہوتی یا اتنی بے وقوفی کی نہیں ہوتی جتنی بظاہر نظر آتی ہو۔جب میں فلسفیانہ رنگ میں اس پر غور کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتا ہوں تو اس کی اہمیت مجھے نظر آجاتی ہے اس لئے میں اسے ٹالنے والا جواب نہیں دیتا بلکہ اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے جواب دیتا ہوں اور یہ بات میری علمی ترقی کا موجب ہوتی ہے۔جو شخص دشمن کی بات کو جھوٹا قرار دے کر اس کو ٹال دیتا ہے اس کے لئے قرآن کریم بھی نہیں گھل سکتا اس لئے کہ اس نے سوال کی صورت کو بگاڑ دیا اور بگڑ۔ہوئے سوالات کا جواب قرآن کریم نہیں دیتا لیکن جب وہ اس پر غور کرتا ، سوچتا اور دیکھتا ہے کہ