خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 515

خطبات محمود ۵۱۵ سال ۱۹۳۸ گویا ہماری زبان صرف باہر کی چیزوں کو ہی نہیں چکھتی بلکہ اندر کی حالت کو بھی محسوس کرتی ہے۔زبان کے یہ مزے اپنی ذات میں بعض قوتوں پر دلالت کرتے ہیں۔اگر یہ مزے قائم نہ رہیں تو ہم دوسرے لوگوں کو مشکلات میں ڈال دیں گے کیونکہ جہاں میٹھا دینے کی ضرورت ہے نمکین دے دیں گے اور جہاں کڑوے کی ضرورت ہو ترش دے دینگے۔تو یہ مزے خالی منہ کے مزے نہیں بلکہ انسان کے جسم کی اندرونی جتوں سے ان کا تعلق ہے۔ذیا بیطیس کے مریض کو ہم شکر نہیں دیتے تو کیا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے منہ کا ذائقہ خراب ہے۔یہ وجہ نہیں بلکہ اس کی وجہ اس کی اندرونی خرابی ہے یا خون کی خرابی کی صورت میں ہم نمک نہیں دیتے ، یا نزلہ میں ترشی سے پر ہیز ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ زبان خواہش نہیں کرتی بلکہ زبان تو ایسی حالت میں زیادہ خواہش کرتی ہے ہم اس لئے نہیں دیتے کہ جسم میں ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔تو مزے دراصل انسان کی اندرونی قوتوں پر دلالت کرتے ہیں۔یہ بھی رنگوں کی طرح کی ہیں کبھی ہمیں سرخ رنگ پسند ہوتا ہے اور کبھی سبز۔اسی طرح ان ذائقوں کا حال ہے۔ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھ کچھ تاثیر میں رکھتا ہے۔میٹھا اپنے ساتھ کچھ تاثیریں رکھتا ہے۔جو کبھی اچھی اور کبھی بُری ہوتی ہیں۔اسی طرح کڑواہٹ کی بعض تاثیریں ہیں۔زبان کے ذائقہ کا کڑوا ہونا بتا تا ہے کہ معدہ میں نقص ہے اور کہ اسے کڑوی چیزوں کی ضرورت ہے۔ڈاکٹری تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کڑوی اشیاء خون کی صفائی اور معدہ کی تقویت کا موجب ہوتی ہیں۔اسی طرح میٹھا دل کی تقویت کا موجب ہے۔جب ہم کسی چیز کو چکھتے ہیں اور اسے میٹھی پاتے ہیں تو ہمیں خیال ہوتا ہے کہ یہ دل کے لئے مفید ہوگی۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ ٹیسٹ TASTED) بتا دیئے ہیں اور مختلف چیزوں میں مختلف ذائقے رکھ کر ہماری اس طرف را ہنمائی کی ہے کہ ہم ان اشیاء کی تا شیروں کی سے فائدہ اٹھا ئیں۔میٹھا کیا ہے یہ گویا ایک ٹریکٹ ہے، اشتہار ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ فلاں چیز میں یہ فائدہ ہے۔کرواہٹ ایک ٹریکٹ ہے جو بتاتا ہے کہ اس چیز میں یہ خاصیت ہے اور ہماری زبان ان ٹریکٹوں کو پڑھنے والی آنکھ ہے۔جس طرح حرفوں کو پڑھنے کے لئے آنکھ میں ڈیلا ہوتا ہے اسی طرح ہماری زبان مختلف اشیاء کی خاصیتوں کو پڑھنے کی آنکھ ہے۔تو یہ خاصیتوں کو بتانے کی