خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 495

خطبات محمود ۴۹۵ سال ۱۹۳۸ء آ رہا ہے مگر وہ جو اپنے نفس کی کسی خواہش کو پورا کرنے کے لئے الہی سلسلہ میں داخل ہوتا ہے ہے۔وہ پہلے قربانیوں میں شریک رہتا ہے اور دو، چار، پانچ ، دس، پندرہ ، ہیں سال جتنا جتنا ایمان ہوتا ہے اتنا عرصہ چلتا چلا جاتا ہے مگر آخر حوصلہ ہار کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے سب جھوٹ اور فریب ہے تو فرماتا ہے۔لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا جس کام کے لئے تو کھڑا ہے اس میں کئی آدمی لالچ اور حرص کے خیالات کے ماتحت شامل ہو گئے تھے ، اب اگر ان کا مقصود نہیں جلدی حاصل ہو جاتا (عَرَضًا کے معنی مطلب اور فائدہ کے ہیں ) یعنی اگر ان کا وہ فائدہ اور مطلب جس کے لئے وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے سہل الحصول اور بالکل قریب ہوتا وَ سَفَراً فَاصِدًا اور سفر چھوٹا ہوتا کئی سالوں کے بعد اسلام کی ترقی نہ آنیوالی ہوتی لَا تُبَعُوک تو وہ آخر تک تیرے ساتھ چلتے اور اپنے عہد نبھا دیتے وَلكِنُ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشَّقَّةُ لیکن چونکہ سفر لمبا ہے اور ابھی ختم نہیں ہوا اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ جھوٹ ہی ہے اور پھر مرتد ہو جاتے ہیں۔یعنی اگر وہ ظاہر میں بھی مرتد ہو جائیں تو کافر ہو جاتے ہیں اور اگر اندر ملے رہیں تو منافق کی بن جاتے ہیں۔منافقوں کی تیسری قسم وہ ہے جن کے اندر ایمان تو ہوتا ہے مگر ساتھ ہی کفر بھی ہوتا ہے اور اس ایمان اور کفر کے اُن پر دورے آتے رہتے ہیں۔کبھی ایمان کا دورہ آجاتا ہے اور کبھی کفر کا دورہ آجاتا ہے یہ عملی منافق ہوتے ہیں۔انہیں عقائد کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔وہ ج منافق ہوں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مسیح موعود بھی مانیں گے۔گویا اُن کا دماغ کہتا ہے کہ عقائد وہی درست ہیں جو اس جماعت کے ہیں مگر چونکہ اُن کے دل کا لگاؤ اور محبت کم ہو جاتی ہے، اس وجہ سے اُن پر کفر اور ایمان کا دورہ آتا رہتا ہے۔کبھی کہتے ہیں یہ جماعت بہت بُری ہے اس میں شامل رہنے سے کیا فائدہ۔اور کبھی کہتے ہیں اچھے لوگ ہیں، عقائد ان کے خوب ہیں صرف فلاں فلاں باتیں اگر ان میں نہ پائی جائیں تو پھر ٹھیک ہے۔ایسے منافقوں کا ذکر اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں ان الفاظ میں فرماتا ہے كلما أَضَاءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيهِ ، وَإِذَا اظلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۱۲ چونکہ ان کے دل میں کفر اور ایمان ملا ہوا ہوتا ہے اس لئے گو یہ خدا کو مانتے ، اُس کے رسول کو مانتے اور باقی ارکانِ اسلام کو بھی درست تسلیم کرتے ہیں مگر ان کا ،