خطبات محمود (جلد 19) — Page 478
خطبات محمود ۴۷۸ سال ۱۹۳۸ ء وہ بظاہر اپنے خاوندوں کے ساتھ رہتی ہیں مگر در پردہ بدکاری اور فسق و فجور اُن میں پایا جاتا ہے اور وہ دوسروں سے تعلقات رکھتی ہیں ، پھر ہزاروں ایسی ہیں جو بد کار تو نہیں لیکن انہیں اپنے خاوندوں سے دشمنی ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے خاوندوں کے خلاف بھی منصوبے کرتی رہتی ہیں ، پھر ہزاروں ایسی ملیں گی جو خاوندوں کے حُسن سلوک میں کمی ہونے کی وجہ سے اُن کے خلاف فتنه و فساد بپا رکھتی ہیں اور اسی کا نام منافقت ہے ۔ پھر جو دوست ہوتے ہیں ان میں بھی ایک رنگ کی حکومت ہوتی ہے۔ تم کبھی دو دوست مساوی نہیں دیکھو گے ۔ جب بھی دیکھو گے تمہیں معلوم ہوگا کہ ایک غالب دوست ہے اور ایک مغلوب دوست ہے۔ یعنی ایک دوست دوسرے دوست کے پیچھے چلنے والا ہوگا اور دوسرا اُسے مشورہ دینے والا اور اُسے چلانے والا ہوگا ۔ دو برابر کے دوست تمہیں کبھی نظر نہیں آئیں گے کیونکہ یہ فطرت کے ہی خلاف ہے کہ انسانوں میں گلی طور پر مساوات ہو ۔ ۔ وہ وہ ضرور ضرورا۔ اپنے میں سے ایک کی قابلیت اور برتری کون تسلیم کرتے اور اُس کے پیچھے چلتے ہیں چاہے وہ مُنہ سے نہ کہتے ہوں کہ تو ہمارا بادشاہ ہے۔ جہاں بھی چار پانچ دوست ہوں گے تم دیکھو گے کہ ان میں سے ایک دو مشورہ دینے والے ہوں گے اور باقی مشورہ لینے والے، ایک دو حکم دینے والے ہوں گے اور باقی حکم سننے والے تو دوستوں میں بھی حکومت کا ایک رنگ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح مدرسے ہیں، مساجد کے اجتماع ہیں ، تجارتیں ہیں ، زراعتیں ہیں ، ان سب میں ایک رنگ حکومت کا پایا جاتا ہے۔ بازار کا سوال ہو تو ایک چودھری ہوتا ہے جسے اپنے حلقہ میں ایک رنگ کی حکومت حاصل ہوتی ہے ۔ غرض تھوڑی یا بہت حکومت ہر شخص کو حاصل ہے اور اس کے بغیر دنیا کا کام نہیں چلتا ۔ چوروں اور ڈاکوؤں تک کو لے لیں ان کے سردار ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ چور چوریاں کریں اور وہ کسی کو اپنا افسر نہ بنائیں ، ڈاکو ڈاکے ڈالیں اور کسی کو اپنا لیڈر تجویز نہ کریں، فقیر اور سادھو بھی اپنے میں سے ایک کو افسر بنا لیتے ہیں ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا ہے کہ کوئی دو مؤمن ایسے نہ ہوں جو اپنے میں سے ایک شخص کو امیر نہ بنا لیں ۔ سے تو اب ایک رنگ کی حکومت تمام دنیا میں ہو گئی ۔ ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ اور دوسری طرف یہ فرما دیا کہ