خطبات محمود (جلد 19) — Page 477
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء میں یہ بات زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کہیں نظام ہوگا وہاں یہ بات نمایاں نظر آ جائے گی اس لئے کہ نظام ہر شخص کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سپرد اس نظام کی نگرانی ہوتی ہے اور چونکہ وہ نگرانی کرتے ہیں اس لئے جب معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص منافق ہے تو اسے بلایا جاتا ہے، اُس پر جرح کی جاتی ہے، اس کے متعلق گواہیاں لی جاتی ہیں اور اس طرح تمام باتیں ریکارڈ اور شہادتوں میں آجاتی ہیں۔پس چونکہ ایک نظام کے نتیجہ میں اس قسم کی باتیں ریکارڈ میں آجاتی ہیں اور منافقوں کو بلا بلا کر ان سے سوالات کئے جاتے ہیں کی لئے یہ بات نمایاں طور پر نظر آجاتی ہے لیکن جب ایک دوست دوسرے دوست سے غداری کرتا ہے تو وہ صرف اتنا ہی کرتا ہے کہ اُس سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔اس کے اندر یہ طاقت نہیں ہوتی کہ اُسے بلائے ، اُس کے متعلق شہادتیں لے اور جرح کر کے اُس کی منافقت کو ثابت کرے اور اگر وہ اسے بلائے بھی تو وہ آئے گا کیوں؟ کہے گا تم گھر بیٹھو میں تمہارا کوئی نوکر نہیں کہ تمہارے بلانے پر آجاؤں۔مگر جہاں نظام ہوتا ہے وہاں چونکہ ایک قسم کی طاقت ہوتی ہے اس لئے جن پر منافقت کا الزام ہو اُنہیں بلایا بھی جاتا ہے اُن کے متعلق گواہیاں بھی لی جاتی ہیں ، اُن پر جرح بھی کی جاتی ہے اور اس طرح یہ تمام چیز میں ریکارڈ میں آجاتی اور لوگوں کو نمایاں طور پر نظر آنے لگ جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کہنا کہ حکومت کے ساتھ منافقت ہوتی ہے، یہ حکومت کے مفہوم کے کی سمجھنے میں غلطی کھانے کا نتیجہ ہے اور اگر یہ صحیح ہو کہ حکومت کے ساتھ ہی منافقت ہوتی ہے تو اس حکومت سے مراد وہی حکومت ہوگی جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ کہ تم میں سے ہر شخص بادشاہ، چرواہا یا نگران ہے اور ہر شخص سے اپنی اپنی رعیت یا گلے کے متعلق سوال کیا جائے گا۔تو کی کوئی انسان دنیا میں ایسا نہیں جس کو کچھ نہ کچھ حکومت نہ ملی ہو۔اگر اس کی بیوی ہے تو الرجال قوامُونَ عَلَى النِّسَاء کے ماتحت وہ اپنی بیوی کی نگرانی کرتا ہے۔اگر اس کے کی بچے ہیں تو وہ اپنے بچوں کا نگران ہے۔پھر یہ دنیا سینکڑوں یا ہزاروں افراد پر مشتمل نہیں بلکہ اربوں کی دنیا ہے اس دنیا میں ہزاروں ایسے آدمی ملیں گے جن کی بیویاں منافق ہوتی ہیں۔