خطبات محمود (جلد 19) — Page 472
خطبات محمود ۴۷۲ سال ۱۹۳۸ ء اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا تو تم ہرگز ملول نہ ہو۔ دوسروں کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ حجاب کے پیچھے سے بات کرتا ہے مگر تمہارے والد کو بالمشافہ بلایا اور فرمایا عبداللہ مانگ جو مانگنا ہے ، میں دوں گا ۔ اس پر عبداللہ نے کہا کہ اے اللہ ! میرا مطالبہ یہی ہے کہ مجھے پھر زندہ کرتا میں پھر تیری راہ میں مارا جاؤں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اگر میں نے اپنی ذات کی قسم نہ کھائی ہوتی کہ مر دے دنیا میں واپس نہیں لوٹائے جائیں گے ۔ ۱۵ تو میں ضرور تجھے واپس کر دیتا۔ یہی وہ حدیث ہے جسے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی مردوں کے زندہ نہ کر سکنے کے متعلق ہمیشہ پیش کیا کرتے ہیں اور اس وجہ سے اکثر احمدی ان کے نام سے واقف ہیں ۔ جب ان عبداللہ بن عمرو کی وفات کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ انصار پر فضل کرے ان میں سے عبداللہ نے ہماری بہت خدمت کی ہے۔ تو یہ کتنا نازک موقع تھا مگر تمیں فیصدی لوگ واپس ہو گئے اور اس سے صحابہ کو قطعاً کوئی ابتلاء نہیں آیا۔ مگر تمہارے لئے کیا کبھی اس کا دسواں حصہ بھی ابتلاء آیا ہے؟ تمہارے لئے تو اس کا سواں حصہ بھی نہیں آیا۔ اس کے بعد اسلام کو شوکت حاصل ہوتی گئی اور جوں جوں مسلمان بڑھتے گئے منافقوں کی نسبت بھی کم ہوتی گئی ۔ جب مسلمان دو ہزار ہو گئے تو منافق جو تین سو تھے لازماً پندرہ فیصدی ہو گئے ۔ جب مؤمن پانچ ہزار ہوئے تو منافق چھ فیصدی رہ گئے ، جب مؤمن دس ہزار ہوئے تو منافق تین فیصدی باقی رہ گئے ۔ چاہے تعداد ان کی اس وقت بھی تین سو ہی ہو مگر نسبت کم ہو گئی ۔ اس طرح ان کی تعداد کم ہو گئی اور یہ ابھرنے سے رہ گئے مگر جب اسلام دوسرے ملکوں میں پھیلا تو ان علاقوں میں جہاں تربیت مکمل نہ ہوئی تھی ان لوگوں نے پھر زور پکڑ ا خصوصاً جب غیر قوموں سے مقابلہ ہوتا تو ان میں بھی جوش پیدا ہوتا ۔ جیسا کہ پچھلے دنوں جب حکومت سے ہمیں بعض اختلافات ہوئے تھے تو منافق کہتے تھے کہ اب کام بن گیا ۔ اب انگریزوں سے لڑائی شروع ہو گئی ہے ۔ ذرا کسی سپاہی نے سلام کر دیا۔ کہ اس طرح واقفیت پیدا کر کے کچھ باتیں معلوم کرے تو ان کا دماغ عرش پر پہنچ گیا کہ سپاہی نے ہم سے بات کی ۔منافقوں کے دماغ ایسے ہی ہوتے نے ہیں ہیں جیسا جیسا کہ کہا ایک چوہڑے کا تھا ۔ جب مہا راجہ اجہ رنجیب رنجیب سنگھ سندھ فوت فوت ہوئے ہوئے تو تو چونکہ چونکہ ان ان کی حکومت کے زمانہ میں ایک نظام قائم ہوا تھا اور عدل بھی ہونے لگا تھا اس لئے لوگوں کو