خطبات محمود (جلد 19) — Page 465
خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۳۸ ء پس جس فعل پر ان دو آدمیوں کو سزا دی گئی وہ یقیناً منافقانہ ہے۔ ایک شخص کا مسجد اقصی میں قسم کھانا تو الگ رہا اگر تم سارے کے سارے بھی قسم کھاؤ تو میں کہوں گا تم غلط کہتے ہو۔ یہ فعل واقعی منافقانہ ہے۔ ان میں سے ایک نے عجیب لطیفہ مجھے لکھا کہ میں نے سلسلہ کا کیا قصور کیا ہے۔ ستر روپے گئے تو میرے گئے ۔ سلسلہ کو کیا نقصان ہوا۔ یہ تو ایسی بات ہے کہ کوئی احرار کو چندہ دے کر کہے کہ روپیہ تو میرا گیا سلسلہ کو کیا نقصان پہنچا۔ تم جو ستر روپے ایک مخالف کو دے آئے کیا یہ سلسلہ کا نقصان نہیں ۔ ستر چھوڑ اگر تم سات روپے بھی دے آتے ، سات آنے بلکہ سات دمڑی بلکہ ایک دمڑی بھی دیتے تو بھی سلسلہ کا نقصان تھا ۔ اس طرح تو ایک کا فر بھی کہہ سکتا ہے کہ ابو جہل کے ساتھ مل کر جان تو میں نے اپنی دی خدا تعالیٰ کا اس سے کیا نقصان ہوا ۔ تو یہ جواب خود کمزوری ایمان کی دلالت کرتا ہے ۔ اگر اس کے اندر غیرت ہوتی تو اسے خود معلوم ہو جاتا کہ اس سے سلسلہ پر حرف آتا ہے ۔ کیا یہ سلسلہ کی ہتک نہیں کہ اس کے دو افراد نے اس کے نظام کو توڑا۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ جماعت کے افراد کا روپیہ مخالف کے پاس جانا سلسلہ کا نقصان نہیں تو یہ دوسری رگ منافقت کی ہے مگر میں اسے بھی منافق نہیں کہتا ۔ اگر وہ اپنے آئندہ طرز عمل سے ثابت کر دیں گے کہ وہ منافق نہیں ہیں تو ہمارے بھائی ہیں اور اگر ان کا آئندہ طرز عمل ان کو منافق ثابت کرے گا تو خدا تعالیٰ کے سلسلہ کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی پیدا نہیں ہوئی کہ جس میں منافق نہ پیدا ہوئے ہوں ۔ میں حیران ہوں کہ آپ لوگوں کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں گھستی ۔ بعض دفعہ آپ لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ منافق کہاں سے آجاتے ہیں ۔ مگر یاد رکھو کہ یہ سُنت اللہ ہے ۔ آج تک کوئی جماعت ایسی نہیں ہوئی جس میں منافق نہ ہوئے ہوں ۔ جب بھی کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہوتی ہے اس میں منافق بھی ضرو - ہوتے ہیں ۔ رور مشہور انبیاء جن کے حالات معلوم ہیں ، تین ہیں ۔ سب سے زیادہ حالات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ ہیں اور ان سے اُتر کر حضرت موسیٰ اور عیسی علیہما السلام کے ہیں اور زمانہ کے لحاظ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے پہلے گزرے ہیں ۔ ان کے زمانہ میں