خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 464

خطبات محمود ۴۶۴ سال ۱۹۳۸ء کرے؟ یہ طریق نہایت غلط ہے اور منافقانہ ہے۔میں ان لوگوں کو تو منافق نہیں کہتا مگر ان کا یہ فعل ضرور منافقانہ ہے۔اسی طرح میں قاضیوں اور ناظروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بہت احتیاط سے کام لیا کریں۔اگر کوئی ان کے پاس کسی کی سفارش کرے تو ہرگز پرواہ نہ کیا کریں خواہ وہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو۔میں جانتا ہوں کہ غلطیاں ہو جاتی ہیں بعض اوقات ہمارے گھروں میں بھی عورتیں آجاتی ہیں اور میری بیویوں سے کہتی ہیں۔بعض دفعہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ میری بیویوں کی میں سے کسی نے کوئی سفارش اپنے کسی رشتہ دار ناظر یا افسر سے کر دی لیکن جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے ہمیشہ گھر میں ڈانٹا کہ کیوں ایسا کیا گیا۔کیا ناظر بد دیانت ہے۔اگر بددیانت ہے تو اسے علیحدہ کر دینا چاہئے لیکن اگر نہیں تو پھر کہنے کا کیا فائدہ؟ دوسرے اداروں میں سفارشیں ہوتی رہتی ہیں اور چونکہ وہاں سارا نظام ہی اس طرح چل رہا ہے اس لئے بعض اوقات ہم بھی کی سفارش کر دیتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دنیا میں اس کی وقت چونکہ پیسہ کے بغیر کام نہیں چلتا اس لئے اپنا حق لینے کے لئے کسی کو کچھ دے دینا جائز ہے ہاں کسی کا حق لینے کے لئے ایسا کرنا نا جائز ہے یہی حال سفارش کا ہے۔جہاں یہ چل رہی ہے وہاں اپنا حق لینے کے لئے سفارش کر دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن دوسرے کا حق مارنے کے لئے سفارش جائز نہیں لیکن سلسلہ کے نظام میں اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ناظروں کو یہ بھی کی چاہئے کہ اپنی بیویوں پر دباؤ رکھیں اور ان کو سختی سے روک دیں کہ ایسی باتوں میں دخل نہ دیا کریں۔میری خلافت کا پچیسواں سال اب ختم ہونے کو ہے مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کبھی اپنی بیویوں سے ایسی باتیں کی ہوں۔بلکہ بعض اوقات لطیفہ ہو جاتا ہے۔میں ناظروں کی سے کوئی بات کرتا ہوں وہ اپنی بیویوں سے کر دیتے ہیں وہ میری بیویوں سے کرتی ہیں اور پھر وہ مجھ سے کرتی ہیں کہ سنا ہے یوں ہوا۔تو یہ طریق بھی غلط ہے۔میں نے سلسلہ کی ایسی بات اپنی بیویوں سے کبھی کی ہی نہیں اور افسروں کا بھی فرض ہے کہ اس کا خیال رکھیں۔ہم نے انہیں مقرر کی کیا ہو ا ہے ان کی بیویوں کو نہیں۔انہیں اگر اپنی بیویوں پر اعتماد ہے تو اپنے راز بے شک ظاہر کر دیں مگر سلسلہ کے نہیں۔