خطبات محمود (جلد 19) — Page 463
خطبات محمود ۴۶۳ سال ۱۹۳۸ء بہت خراب ہے، ابھی اسے مہلت دی جائے۔ایسی سفارش ثواب ہے مگر نظام کے بارہ میں سفارش کی جائز نہیں۔ہاں واقعات کا اگر کسی کو علم ہو تو بتا سکتا ہے۔مثلاً یہی معاملہ تھا اگر کوئی عینی شاہد ہوتا اور پھر وہ دیکھتا کہ تحقیقات غلط ہوئی ہے تو وہ بتا سکتا تھا کہ میں خود وہاں موجود تھا بات یوں کی نہیں یوں ہوئی تھی۔یہ سفارش نہیں بلکہ شہادت ہے جو واجب اور فرض ہے۔مگر اس کیس میں تو ایسی صورت نہ تھی۔انہوں نے خود اقرار کیا کہ وہ تیسرے آدمی کے بغیر گئے اور مصری صاحب نے ان سے الگ الگ باتیں کیں۔میں تو حیران ہوں کہ یہ حساب فہمی ہو رہی تھی یا رشتہ ناطہ کی بات چیت تھی جو کسی دوسرے کے سامنے نہ کی جاسکتی تھی۔جب ان کے سامنے علیحدہ علیحدہ ملنے کا کی سوال پیش کیا گیا۔تو ان کو اسی وقت سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اب ہمارے ایمان کے امتحان کا موقع ہے۔پھر یہ کیا ضروری ہے کہ قرض خواہ مقروض کے مکان پر ہی جا کر مطالبہ کرے۔قانون نے اور ذرائع بھی رکھے ہیں ، ان کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔آئندہ کے لئے میں ناظروں پر بھی یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی ایسے معاملہ میں کوئی شخص ان کے پاس سفارش لے کر آئے تو ان کا فرض ہے کہ فوراً میرے پاس اس کی رپورٹ کریں۔صرف ر ڈ کر دینا ہی کافی نہیں۔اگر مجھے معلوم ہوا کہ ان کے پاس کسی نے سفارش کی اور انہوں نے ر ڈ کر دی مگر مجھے رپورٹ نہیں کی تو میں سمجھوں گا کہ منافقت کی رگ ان کے اندر بھی ہے۔متواتر شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ سفارشیں کی جاتی ہیں۔میرے اسی عزیز کے متعلق پہلے بھی ایک دفعہ شکایت آئی تھی کہ دو شخصوں کا آپس میں مقدمہ تھا اور ایک کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ بڑا نیک آدمی ہے، اس کا خیال رکھیں۔دوسرے فریق کو اس کا علم ہو گیا اور انہوں نے میرے پاس شکایت کر دی۔میں نہیں سمجھتا کہ انہیں کس نے داروغہ بنایا ہے کہ اس کی طرح سفارشیں کرتے پھریں۔ہر شخص اپنے دوستوں کو نیک سمجھتا ہے تو کیا صرف اس وجہ سے کہ کوئی شخص اپنے دوست کے نزدیک نیک ہے ، ضروری ہے کہ مقدمہ بھی اس کے حق میں ہو جائے۔اگر اس سلسلہ کو جاری رہنے دیا جائے تو ہر فریق کے متعلق اس کے دوست آ آ کر کہہ دیا کریں گے کہ وہ نیک آدمی ہے۔دن اسے اچھا کہیں گے اور دن اُسے۔تو کیا اس صورت میں قاضی کسی کے خلاف بھی فیصلہ نہ کرے اور اندھے راجہ کی طرح اپنے آپ کو پھانسی پر لٹکا لیا