خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 459

خطبات محمود ۴۵۹ سال ۱۹۳۸ء آئے اور اجازت طلب کی کہ ہم نے مصری صاحب کے ساتھ حساب کرنا ہے ان سے ملنے کی اجازت دی جائے اور چونکہ ہم نے یہ قانون مقرر کیا ہوا ہے کہ ایسی صورت میں تین آدمیوں کو اکٹھا ملنے کی اجازت دی جایا کرے کیونکہ حساب کتاب کا معاملہ ایسا ہے کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس غرض سے اجازت حاصل کرنے والا بہانا کرتا ہے یا واقعہ اس نے کچھ لینا ہے۔ناظر صاحب امور عامہ نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مرزا مہتاب بیگ صاحب کو ساتھ لے جائیں دو آپ میں تیسرے وہ ہو جائیں گے اور تینوں اکٹھے جا کر مل آئیں لیکن کی انہوں نے واپس آکر کہا کہ ہم مل تو آئے ہیں مگر ایک غلطی ہوگئی مرزا مہتاب بیگ صاحب ملے نہیں تھے اس لئے ہم ان کے بغیر ہی چلے گئے تھے۔ان کا یہ ایسا نا معقول عُذر تھا کہ کوئی معقول آدمی اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا اس لئے جس حساب پر پہلے سوا سال گزر چکا ہے یہ حساب ان کے اخراج کے بعد کا تو ہو نہیں سکتا اس لئے لازماً یہ سوا سال سے پہلے کا ماننا پڑے گا۔اس پر اگر چند گھنٹے اور انتظار کرنا پڑتا حتی کہ وہ تیسرا آدمی مل جاتا اور وہ اسے ساتھ لے جا سکتے تو اس میں کیا حرج تھا۔کیا اسی دن کوئی خاص مہورت تھا اور کسی جوتشی نے ان سے کہا تھا کہ اگر تم چند گھنٹوں کے اندر اندر نہ پہنچے تو تمہارا روپیہ مارا جائے گا۔یا گورنمنٹ کا کوئی حکم تھا کہ اس وقت تک کے بعد تمہارا روپیہ ضبط ہو جائے گا۔یا کیا قرآن کریم کا کوئی ایسا حکم ہے کہ اگر اتنے عرصہ کے اندر اندر قرضہ نہ مانگا جائے تو وہ تلف ہو جاتا ہے۔آخر کیا وجہ تھی؟ کہ وہ دو تین گھنٹے یا اگر تیسرا آدمی اس روز نہیں مل سکتا تھا تو دوسرے روز جا کر نہیں مل سکتے تھے اور ان کے لئے فوراً ہی وہاں پہنچنا ضروری تھا یا انہیں اس بات سے کس نے منع کیا تھا کہ اگر مرزا مہتاب بیگ صاحب نہیں مل سکے تھے تو دوبارہ ناظر امور عامہ کے پاس آکر انہیں کہتے کہ کوئی اور آدمی مقرر کر دیا جائے۔خیر تو ناظر صاحب نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد مجھے بتایا کہ انہوں نے کل پھر جانا ہے اور میں نے ان کو تاکیداً کہہ دیا ہے کہ کل ضرور مرزا صاحب کو ساتھ کی لے جائیں۔یہ سنتے ہی میرے منہ سے فوراً نکلا کہ وہ کل بھی نہیں لے جائیں گے اور اگلے دن کی وہ پھر میرے پاس آئے اور شرمندگی سے کہا کہ وہ آج پھر کسی کو ساتھ لے کر نہیں گئے۔گو ضروری نہیں کہ ایسے قیاسات جو ان حالات میں کئے جاسکتے ہیں صحیح ہوں بعض اوقات اور وجوہ