خطبات محمود (جلد 19) — Page 45
خطبات محمود لده سال ۱۹۳۸ ء کے ساتھ رعایت کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے اچھا کرتا ہے کہ اس دوسرے شخص کے اعمال یا اس کا ایمان گو بظاہر کمزور نظر آتا تھا لیکن اس کے دل کی گہرائیوں میں کوئی ایسا جو ہر ہی تھا ، کوئی ایسی قابلیت چھپی ہوئی تھی ، کوئی ایسی محبت کی ٹیس اُٹھ رہی تھی جس کو خدا تعالیٰ نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ پس اس نے اس کی موت کو پیچھے کر دیا اور اس وقت تک ملک الموت کو نہ آنے دیا جب تک اس کا مخفی جو ہر ظاہر نہ ہو گیا اور اس کی چھپی ہوئی محبت عیاں نہ ہوگئی ۔ پس خدا نے بلا وجہ اس کی حالت کو نہیں بدلا بلکہ جو قابلیتیں اس کے اندر مخفی تھیں اور جو درد محبت اس کے اندر نہاں تھا اسی کو ظاہر کر کے انصاف قائم کیا ہے نہ کہ رعایت ۔ پس انجام کے ۔ مطابق ہی خدا کے بدلے ملتے ہیں اور اسی طرح ہونا چاہئے ۔ یہی انصاف ہے اور اسی میں عدل ہے اور یہی رحمت کا تقاضا ہے ۔ پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے کہ اس کا قدم قربانیوں میں آگے ہی بڑھتا چلا جائے ، خدا کا فیصلہ اس کے ایمان پر مہر لگاتا چلا جاتا ہے اور ہم اس کی اس ترقی کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر رہے گا لیکن وہ جو چلتا ہے اور کھڑا ہو جاتا ہے اور قربانی کرتا ہے اور پھر آسمان کی طرف بدلہ کیلئے نگاہ اٹھاتا ہے اور اپنی موت بدلہ سے پہلے ہی اپنے پھل حاصل کرنا چاہتا ہے یا تھک کر بیٹھ جاتا ہے یا پہلے سے اس کا قدم سُست ہو جاتا ہے ( جیسا کہ اس سال بعض جماعتوں اور بعض افراد کی حالت سے نظر آ رہا ہے ) اس کا پھل اس کا خدا نہیں بلکہ اس کی دنیا ہے ۔ دنیا تو شاید اس کو مل جائے مگر خدا اس کو نہیں ملے گا اور کبھی نہیں ملے گا۔“ البقرة : ۲۱۵ ۲ طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحه ۲ ۱۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۵ ء سے تاریخ ابن اثیر جلد ۴ صفحه ۶۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء طبقات ابن سعد جلد ۴ صفحه ۲ ۱۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۵ء الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۳۸ء )