خطبات محمود (جلد 19) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۸ء نہ صرف وہ دعویٰ غلط ہے کہ اسی فیصدی لوگ ہمارے ساتھ ہیں بلکہ جماعت کے ایک کثیر حصہ کو کی تمہارے افعال سے اتنا بغض ہے کہ وہ تمہارے ایک ساتھی کے قاتل کے جنازہ میں ہجوم کر کے شامل ہو جاتے ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ اسی فیصدی لوگ تو ان کے ساتھ ہوں اور ہزارہا آدمی میاں فخر الدین کے قاتل کا جنازہ پڑھ رہے ہوں۔اگر واقع میں اسی فیصدی ان کے ساتھ تھے تو یہ ہزار ہا آدمی کہاں سے آگئے۔پس ہزار ہا لوگوں کا میاں عزیز احمد صاحب کے جنازہ میں شامل ہونا بتاتا ہے کہ یہ بات کی بالکل جھوٹ ہے کہ اسی فیصدی آدمی ان کے ساتھ ہیں اور اگر وہ یہ کہیں کہ ہماری بات بالکل ٹھیک ہے واقعہ میں ۸۰ فیصدی ہمارے ساتھ ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ جو لوگ جنازہ میں شامل ہوئے ان میں ہمارے آدمی بہت تھوڑے تھے اور باقی جس قدر تھے وہ منافقین تھے جو انہوں نے خود بھجوائے تا کہ ہم بدنام ہوں اور اس صورت میں بھی ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔غرض ی اس کا دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ جو جنازہ میں شامل ہوئے منافقانہ طور پر شامل ہوئے تھے اور وہ دل سے احرار اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ تھے۔تو پھر میرا جواب یہ ہے۔کہ یہ کام تو آپ لوگوں نے خود کرایا ہے۔کہ نَعُوذُ بِاللہ اسی فیصدی لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں ان کو آپ نے جنازہ پڑھنے کے لئے بجھوا دیا تا جماعت بدنام ہو۔پس اگر جنازہ میں شامل ہونے والے مخلص تھے تو یہ جھوٹ ہے جو کہتے ہیں کہ جماعت کے ۸۰ فیصدی آدمیوں کا خلیفہ سے کوئی تعلق نہیں ، وہ دل میں بغض رکھتے ہیں مگر زبان سے اظہار محبت کرتے ہیں اور اگر وہ مخلص نہیں تھے بلکہ منافق تھے تو اس کا مجھ پر کیا اعتراض ہے۔ہم کہتے ہیں وہ تمہارے آدمی تھے جو تم نے خود وہاں بھجوا دئے تا جماعت کو بد نام کرو اور اسے الزام کے نیچے لاؤ۔اس صوت میں بھی نہ صرف یہ کہ میں بری ہوا بلکہ مجھ پر ظلم ہوا کہ مجھے بلا وجہ بد نام کیا گیا۔غرض اگر جماعت نَعُوذُ بِالله مِنْ ذلِكَ منافق ہے اور ان کے ساتھ ہے تو پھر یہ کام شرارت سے ہوا۔مجھ پر کیا اعتراض ہے اور اگر لوگوں نے اخلاص سے کیا ہے تو یہ جھوٹ ہؤا کہ جماعت احمد یہ اندر سے مخلص نہیں اور اسی فیصدی لوگ ان کے ساتھ ہیں۔پھر تو معلوم ہوا کہ جماعت چند منافقین کو چھوڑ کر گلی طور پر خلیفہ کے ساتھ ہے۔