خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 40

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ تیرے باپ کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو کر لڑتا رہا ہے اور جو خود اسلامی لشکر میں تیرے اور تیرے باپ کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے اعلاء کیلئے کی جنگ کرتا رہا ہے مگر پھر مجھے خیال آیا یہ دنیا کی چیزیں ان کیلئے رہنے دو اور اسلام میں ان باتوں کی وجہ سے فتنہ مت پیدا کرو اور میں پھر بیٹھ گیا اور معاویہ کے خلاف میں نے کوئی آواز نہ اُٹھائی ہے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں کیں اور یا تو وہ ان کے دنیوی ثمرات پیدا ہونے سے پہلے ہی فوت ہو گئے یا پھر ان کے زمانہ میں وہ ثمرات ظاہر ہوئے لیکن انہوں کی نے یا تو باوجود مقدرت کے ان ثمرات میں سے حصہ نہیں لیا اور یا پھر وہ ثمرات دوسروں کے ہاتھوں میں جاتے ہوئے دیکھے مگر اپنا حصہ خدا کی رضا میں سمجھ کر ان ثمرات کی طرف سے آنکھیں پھیر لیں اور حقارت سے ان کو ٹھکرا دیا۔یہی لوگ ہیں جو ایمان کا سچا نمونہ دکھانے والے ہیں اور انہی کے نقش قدم پر چل کر انسان مؤمن کہلا سکتا ہے لیکن وہ شخص جو تھوڑی سی قربانی کرتا اور اس کے بعد تھک جاتا ہے اور اس امید میں لگ جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے اس کیلئے کیا بدلہ آیا می ہے اس کو خدا کی رحمتیں نہیں آتیں بلکہ اس کی بزعم خود قربانیاں خود اسی کے منہ پر ماری جاتی ہیں کیونکہ گوخدا قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اس کا مطالبہ سائکلوں کی طرح نہیں ہے۔خدا کا مانگتے وقت ہاتھ نیچا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہاتھ اوپر ہی ہوتا ہے۔جس طرح حکومتیں لوگوں سے ٹیکس لیتی ہیں مگر وہ ذلت کے ساتھ نہیں مانگتیں۔خدا تعالیٰ اس سے بھی زیادہ شان کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے کیونکہ حکومتیں تو لوگوں کے روپیہ سے فائدہ اُٹھاتی ہیں مگر خدا تعالیٰ بندوں کی قربانیوں۔کسی قسم کا فائدہ نہیں اُٹھاتا بلکہ اس کا سارا فائدہ بندوں ہی کو پہنچتا ہے۔جو عظمند ہوتے ہیں وہ تو کوشش کرتے ہیں کہ ہماری جسمانی قربانیوں کا روحانی فائدہ ہمیں مل جائے اور جو کم عقل ہوتے ہیں وہ جسمانی فائدے کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور قومی لحاظ سے وہ بھی ان کو مل ہی جاتا تی ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خدا کا کوئی نبی آیا ہو اور جلد یا بدیر اس کی قوم میں حکومت نہ آ گئی ہو۔پس حکومتیں تو آتی ہیں اور دنیوی فائدے تو پہنچتے ہی ہیں مگر ڈ نیوی فوائد سے زیادہ متمتع ہونے کی کی خواہش ان لوگوں کو ہوتی ہے جو روحانی فوائد کی قیمت نہیں جانتے لیکن دوسرے لوگ جن کو روحانی آنکھیں عطا ہوتی ہیں ، وہ اپنے انعامات کو روحانی شکل میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔