خطبات محمود (جلد 19) — Page 373
خطبات محمود ۳۷۳ سال ۱۹۳۸ ء اہل ہوتے ہیں ۔غرض دیانت دار انسان وہ ہوتا ہے جو قضائی حصے کو جذباتی حصہ سے مغلوب نہ ہونے دے لیکن جب وہ یہ مطالبہ پورا کر دے تو اور اس پر کوئی بوجھ نہیں بشرطیکہ اس کے جذبات جادۂ اعتدال اور صداقت پر ہوں ۔ اگر وہ جذبات صداقت پر مبنی ہوں اور اگر وہ جادہ اعتدال پر قائم ہوں تو نہ صرف یہ کہ وہ خلاف انسانیت نہیں بلکہ وہ عین انسانیت ہیں ۔ یہ تین اصل ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے تب وہ جواب سمجھ آئے گا جو ان سوالات کا میں دینا چاہتا ہوں ۔ مگر چونکہ آج بہت دیر ہو گئی ہے اس لئے اسی پر اپنا خطبہ ختم کرتا ہوں دوسرا حصہ جو جواب پر مشتمل ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔ “ ا الدخان : ۵۰ - ( الفضل ۳۰ جون ۱۹۳۸ء) بخاری کتاب الادب باب مَا يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ (الح) وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا انْفُسُهُمْ فَشَهَادَةً احدهم أَرْبَعُ شَهدَتَ بِاللهِ انّه لَمِنَ الصَّدِقِينَ ( النور : ٧)