خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 366

خطبات محمود ۳۶۶ سال ۱۹۳۸ء جانتے ہیں کہ یہ بُری بات ہے۔مگر ایک ہندو کو نماز نہ پڑھتے دیکھ کر ہمارے دل میں وہ نفرت پیدا نہیں ہوگی جو ایک مسلمان کو نماز نہ پڑھتے دیکھ کر پیدا ہوگی کیونکہ ان دونوں کے نقطہ نگاہ میں فرق ہے۔وہ نماز پڑھنا ضروری نہیں سمجھتا اور یہ نماز کو ضروری سمجھنے کے باوجود سستی کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا۔پھر اس کی تعلیم کو دیکھا جائے گا کہ وہ پڑھا لکھا ہے یا جاہل ، اس کے پسماندگان کی حالت دیکھیں گے کہ کیسی ہے کیونکہ یہ بات بھی جذبات کو بالکل بدل دیتی ہے۔اگر ایک بڑے سے بڑا ڈا کو ہوا اور فرض کرو اس کی بیوی مری ہوئی ہے اور اس کا صرف ایک ہی بچہ ہے اور وہ بھی چار پانچ سال کا اور پھر وہ بھی آنکھوں سے اندھا تو جس وقت اس ڈاکو کو پھانسی پر لٹکا یا جا رہا ہو اور اس کا بیکس یتیم اور اندھا بچہ رو رہا ہو اس وقت تم میں سے کون ہے جس کا دل رحم سے نہیں بھر جائے گا۔پس پسماندگان کی حالت بھی قلبی کیفیات کو بدل دیتی ہے۔اسی طرح اس کے دوسرے افعال کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ایک وہ ہوتا ہے جو عادی طور پر چوری کرتا ہے اور کی ایک وہ ہے جو یوں تو بڑا نیک تھا مگر کسی بات سے مجبور ہو کر انتہائی لاچاری کی حالت میں اس کی نے چوری کر لی۔یا ایک وہ ہے جو ہمیشہ دوسروں سے لڑتا رہتا ہے اور دوسرا وہ ہے جو ہے تو بڑا کی رحم دل مگر اتفاقی طور پر ایک دفعہ جوش میں آکر وہ دوسرے سے لڑ پڑا ہے۔اب گوان دونوں سے ایک ہی قسم کا جرم سرزد ہوا ہو مگر ایک کے متعلق ہمارے جذ بات بالکل اور قسم کے ہوں گے اور دوسرے کے متعلق ہمارے جذبات اور قسم کے ہوں گے۔پھر جس کے خلاف حملہ ہوا ہے اس کے حالات اور اس کے پسماندگان کے حالات بھی دیکھے جائیں گے۔بظاہر جس طرح ایک آدمی قتل ہو جاتا ہے اسی طرح دوسرا آدمی بھی قتل ہوتا ہے مگر ایک آدمی ایسا ہوتا ہے جس پر ملک کا انحصار ہوتا ہے اور دوسرا آدمی معمولی اور نکھتا ہوتا ہے۔ایک کے قتل ہونے پر اتنا شور پڑتا ہے کہ تمام ملک ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ہل جاتا ہے اور دوسرے آدمی کے قتل ہونے پر کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔اب کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ یہ دونوں فعل اپنے اثرات کے لحاظ سے یکساں ہیں۔پنڈورہ میں اک چوہڑہ دوسرے چوہڑے کو قتل کر دیتا ہے تو گاؤں سے باہر اس کے قتل ہونے کی خبر تک نہیں جاتی۔مگر ملک کا کوئی خادم مارا جاتا ہے تو تمام ملک اس آواز سے گونج اٹھتا ہے۔بے شک ایسے مواقع پر ایک چوہڑے کے قاتل کو بھی وہی سزا ملے گی