خطبات محمود (جلد 19) — Page 340
خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۳۸ اگر ہم نے دنیا میں اسلام کے صحیح نقش و نگار کو قائم کرنا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ سب روکوں کو دور کی کریں۔میں نے دیکھا ہے کہ چونکہ ہماری جماعت کی عورتوں اور بچوں کی تربیت صحیح رنگ میں کی نہیں ہوتی اس لئے مرد جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں وہ ان کے رستہ میں روک ہو جاتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ بعض عورتیں مردوں سے بھی بڑھی ہوئی ہیں بلکہ بعض میرے پاس شکایتیں کرتی رہتی ہیں کہ ہمارے مردست ہیں، فلاں مرد نماز نہیں پڑھتا ، فلاں چندہ میں ست ہے اور ان میں مردوں سے بھی زیادہ اخلاص ہے۔یہ عورتیں اللہ تعالیٰ کے دفتر میں یقیناً اپنے مردوں سے افضل ہیں اور ان کے مرد خدا تعالیٰ کے دفتر میں ان کی رعایا ہیں اور جبراً ان سے وصول کر کے دیتی ہیں۔پس عورتوں اور بچوں کی تربیت اگر صحیح رنگ میں کی جائے تو بہت اچھے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اس لئے میری تجویز ہے کہ آج سے لے کر جولائی کے آخری ہفتہ تک قادیان کی بھی اور کی بیرونجات کی بھی تمام جماعتیں جلسے کریں اور تحریک جدید کے مطالبات کی طرف مردوں ، عورتوں اور بچوں کو متوجہ کریں اور جنہوں نے چندے لکھوائے ہوئے ہیں ان کو تحریک کریں کہ فوراً ان کو ادا کریں بلکہ کوشش کریں کہ اس جلسہ تک تمام چندے ادا ہو جائیں۔اور جنہوں نے گزشتہ وعدے پورے نہیں کئے ان کو تحریک کریں کہ وہ آئندہ ہی پورے کریں اور اس طرح کی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔اگر کسی نے پہلے ستی کی ہے تو وہ آئندہ اس کا ازالہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے متعلق لکھا ہے کہ آپ پیچھے آئے مگر بہتوں سے آگے نکل گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حضرت علیؓ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر پہلے ایمان لا چکے تھے اور حضرت عمر بعد میں لائے مگر سب سے آگے بڑھ گئے۔پس اگر کسی کے اندر کچی تو بہ اور حقیقی تبدیلی پیدا ہو جائے تو وہ اپنی گزشتہ ہستیوں اور کی غفلتوں کا ازالہ کر سکتا ہے ہاں اس کیلئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے دل کا خون کرنا ہوتا ہے اور اگر چند گھنٹوں کیلئے بھی کوئی دل کو خون کر دے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔