خطبات محمود (جلد 19) — Page 34
خطبات محمود له له سال ۱۹۳۸ ء تو اقتصادی مشکلات کا خود بخود حل ہو سکتا ہے اس صورت میں لوگ خود آ آ کر ان کو روپیہ دیں گے ۔ جب دہلی کا غدر ہوا تو اس وقت دہلی میں حکیموں کا خاندان دیانت کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اپنا وہ معیار قائم رکھا ہوا ہے یا نہیں ۔ لیکن اُن دنوں میں اپنا وہ رکھا ہوا ہے یانہیں۔ اس لحاظ سے ان کی شہرت بہت تھی اور ان کی بات بینک کی رسید سمجھی جاتی تھی ۔ جب غدر ہوا اُس زمانہ میں اس خاندان کے بڑے غالباً حکیم محمود خان صاحب تھے جو پٹیالہ کے شاہی خاندان کے طبیب تھے اور ریاست پٹیالہ کی فوجیں انگریزوں کی فوجوں سے مل کر باغیوں سے لڑ رہی تھیں ۔ جب دلی فتح ہوئی تو ایسے موقعوں پر چونکہ ٹوٹ مار ہوتی ہے اس لئے مہا راجہ پٹیالہ نے انگریز افسروں کو کہلا بھیجا کہ ہمارے حکیم صاحب کے مکان پر ایک گارد رہے گی تا ان کا مکان کوئی نہ ٹوٹ سکے ۔ چنانچہ پٹیالہ کی فوج کی گاردان کے مکان پر پہرہ دینے لگی ۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کیلئے شہر سے بھاگ رہے تھے اور جاتے جاتے اپنے قیمتی اموال کی پوٹلیاں مع اپنے پستہ وغیرہ کے ان کی ڈیوڑھی میں پھینک جاتے تھے۔ چونکہ گارد کی وجہ سے اندر جانا یا بات کرنا مشکل تھا اس لئے بھاگتے بھاگتے ڈیوڑھی میں پھینک جاتے تھے۔ میں نے اپنے ننھیال کے رشتہ داروں سے یہ باتیں سنی ہیں کہ امن قائم ہونے پر جب لوگ واپس آئے تو ہر ایک کی امانت اُسے مل گئی ۔ ملک میں بد دیانتی عام ہونے کی وجہ سے یہ بات بہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر دنیا میں اسلامی تعلیم قائم ہوتی اور معیار اس کے مطابق ہوتا تو یہ کوئی غیر معمولی بات تھی ۔ پس اگر ہماری جماعت کے اندر امانت کی روح قائم ہو جائے تو پھر یہ سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ روپیہ کہاں سے آئے ۔ میں مانتا ہوں کہ سب بد دیانت نہیں ہیں لیکن جب سو میں سے دس بد دیانت ہوں تو باقیوں کی امانت بھی مشتبہ ہو جاتی ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہیں جو نظام کے ذریعہ سے ہی قائم کی جاسکتی ہیں، بغیر نظام کے نہیں ۔ مثلاً اگر بد دیانت کو سزا نہ دی جائے تو اس کا انسداد نہیں ہو سکتا ۔ مگر اب کیا ہوتا ہے اگر کسی کے خلاف بد دیانتی کی وجہ سے کارروائی کی جائے تو محلہ کے آدھے لوگ اس کی تائید میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب یہ حالت ہو تو کسی کو سبق کیسے مل سکتا ہے اور اس بدی کو کیسے مٹایا جا سکتا ہے ۔