خطبات محمود (جلد 19) — Page 334
خطبات محمود ۳۳۴ سال ۱۹۳۸ء جو بات سکھائی جائے وہ میچ کی طرح دل میں گڑ جاتی ہے۔بچوں کو لوگ کہانیاں سناتے ہیں جن میں بھوت پریت کا ذکر ہوتا ہے اور ان کا طبیعت پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے بچپن میں ایسی کہانیاں سنی ہیں وہ ان باتوں کے خلاف دلیلیں دیں گے، تقریریں کریں گے مگر ان کی اپنی کچ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان باتوں کا اثر ضرور ظاہر ہوگا۔وہ لوگوں کو ان باتوں کا غلط ہونا بتائیں گے اور اس کیلئے تقاریر بھی کریں گے مگر بعض دفعہ وہ خود شک میں پڑ جائیں گے۔۱۹۱۳ ء میں حضرت خلیفہ اول کے عہدِ خلافت میں جب میں نے ”الفضل“ جاری کیا تو ڈیکلریشن کیلئے گورداسپور جانے لگا۔ایک دوست نے دریافت کیا کہ آپ کہاں جاتے ہیں۔کی میں نے بتایا تو کہنے لگے کہ آج تو منگل ہے، آج نہ جائیں۔میں نے کہا کہ منگل ہے تو کیا حرج ہے۔کہنے لگے کہ یہ بڑا منحوس دن ہے ، آپ نہ جائیں۔میں نے کہا کہ میں نے تو اس کی نحوست کوئی نہیں دیکھی اور اگر اللہ تعالیٰ کی برکت ہو تو منگل کی نحوست کیا کر سکتی ہے اور میں تو ضرور آج ہی جاؤں گا۔کہنے لگے کہ آپ چلے جائیں لیکن یاد رکھیں کہ اول تو ٹانگہ رستہ میں ہی ٹوٹے گا نہیں تو ڈپٹی کمشنر دورہ پر ہوگا۔اور اگر وہ دورہ پر نہ ہوا تو بھی اسے کوئی ایسا کام در پیش ہوگا کہ مل نہیں سکے گا اور اگر ملنے کا موقع بھی مل جائے تو مجھے ڈر ہے کہ وہ درخواست رڈ نہ کر دے مگر میں نے کہا کہ چاہے کچھ ہو میں تو ضرور منگل کو ہی جاؤں گا۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بھی میرے ساتھ تھے۔چنانچہ ہم گئے تو ڈپٹی کمشنر و ہیں تھا۔ہم اس کے مکان پر گئے اور جا کر اطلاع کی کرائی کہ ڈیکلریشن داخل کرنا ہے۔اس نے کہا کہ آپ کچہری چلیں میں ابھی آتا ہوں۔چنانچہ وہ فوراً کچہری آگیا اور چند منٹ میں اس نے ڈیکلریشن منظور کر لیا اور ہم جلدی ہی فارغ ہو گئے۔یہاں سے کوئی سات آٹھ بجے چلے تھے اور کوئی تین چار بجے واپس آگئے۔چونکہ اُن دنوں اگوں میں سفر ہوتا تھا اور اس کے یکطرفہ سفر پر ہی کئی گھنٹے لگ جاتے تھے ، جب اس دوست نے ہمیں واپس آتے دیکھا تو یقین کر لیا کہ یہ اس قدر جلد جو واپس آئے ہیں تو ضرور نا کام آئے ہوں گے اس لئے دیکھتے ہی کہا کہ اچھا آپ واپس آگئے۔ڈپٹی کمشنر غالبا وہاں نہیں ہو گا۔میں نے کہا کہ وہ وہیں تھا ہل بھی گیا اور کام بھی ہو گیا۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ اس نے اتنی جلدی آپ کو فارغ کر دیا ہو۔میں نے کہا منگل جو تھا۔