خطبات محمود (جلد 19) — Page 325
خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۸ ء آپ جلدی سے مجھے قرآن کی دس آیتیں ایسی لکھ دیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں ۔ بس میں جاتے ہی وہ آیتیں ان کے سامنے پیش کروں گا اور انہیں یہیں لاہور میں لے آؤں گا اور شاہی مسجد میں سب کے سامنے تو بہ کراؤں گا ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی جو اس وقت اس بات پر خوش ہو رہے تھے کہ میں آخر بڑی جدوجہد کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حدیثوں کی طرف لے آیا۔ انہوں نے جب یہ بات سنی تو چونکہ مغلوب الغضب آدمی تھے اس لئے غصہ سے لال سرخ ہو گئے اور کہنے لگے تو بڑا جاہل ہے تجھے کس نے کہا تھا کہ تو خود بخود شرائط طے کرتا پھرے۔ میں دو مہینے بحث کر کر کے مولوی نور الدین کو حدیثوں کی طرف لایا تھا تو پھر قرآن کی شرط مان آیا ہے ۔ غصے کی حالت میں ان کے منہ سے جو نہی یہ فقرہ نکلا ان صاحب پر سکتہ طاری ہو گیا اور چونکہ آدمی تھے نیک اس لئے مجلس سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے مولوی صاحب میں اب بات سمجھ گیا۔ میں تو قرآن کی طرف ہوں جدھر قرآن ہے ادھر ہی میں ہوں اور یہ کہہ کر وہاں سے چل دیئے اور قادیان آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی ۔ تو حقیقت یہ ہے کہ مؤمن ادھر ہی جاتا ہے جدھر قرآن اسے لے جاتا ہو۔ اور میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت میں پچانوے فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ایسے مؤمن خدا تعالیٰ کے فضل سے موجود ہیں جن پر اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ قرآن کریم کا وہی حکم ہے جو ہم بتارہے ہیں تو وہ اس اَن پڑھ مؤمن کی طرح یہی کہ یہی کہیں گے کہ جدھر قر جدھر قرآن ہے ادھر ن ہے ادھر ہی ہم ہیں ۔ غلطی ہیں ۔ علی ہماری اور ہمارے علماء کی ہے کہ وہ پوری طرح لوگوں کو ان مسائل اور تعلیمات سے آگاہ نہیں کرتے ۔ تو جس قدر انجمنیں اور سکول ہیں اگر وہ اپنے فرائض میں یہ امر داخل کر لیں کہ انہوں نے لوگوں کو اسلامی تعلیم سے آگاہ کرنا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ شوق سے ان باتوں پر عمل نہ کریں ۔ اگر سکول میں لڑکے اور لڑکیوں کو یہی باتیں بتائی جائیں اور بار بار بتائی جائیں تو گو پھر بھی ان میں بعض غلطیاں رہ سکتی ہیں مگر جو آئندہ نسل پیدا ہوگی وہ بہت زیادہ اصلاح یافتہ ہوگی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول ایک دنیوی سکول ہے مگر یہ دنیوی سکول قادیان میں قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ لڑکوں میں دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی روح پیدا کی جائے