خطبات محمود (جلد 19) — Page 323
خطبات محمود ۳۲۳ سال ۱۹۳۸ء غرض وہ آدمی بڑے ذہین تھے۔یوں پڑھے لکھے اور عالم نہیں تھے مگر تقریر بہت اچھی کر سکتے تھے اور ان کا ذہن بہت صاف تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوئی ماموریت کیا اور لوگوں نے شور مچادیا کہ مرزا صاحب کا فر ہو گئے ہیں تو وہ کہنے لگے میں مرزا صاحب کو جانتا ہوں وہ قرآن سے باہر نہیں جاتے۔انہیں کوئی دھوکا لگ گیا ہوگا ورنہ ان کے دل میں قرآن کریم کی جس قدر محبت ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے کی دیده دانسته خلاف قرآن باتیں کہہ دی ہوں، ضرور انہیں کوئی دھوکا لگا ہے۔پھر کہنے لگے میں خود قادیان جاتا ہوں اور ان سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا بات ہے۔چنانچہ وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آکر کہنے لگے میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہاں میرا یہی دعویٰ ہے۔وہ کہنے لگے میں تو کی سمجھتا تھا لوگ جھوٹ کہہ رہے ہیں اور مجھے بڑا یقین تھا کہ آپ قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کی کہنے والے نہیں۔مگر اب آ کر معلوم ہوا کہ لوگ جو کچھ کہ رہے ہیں وہ سچ ہے۔حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام نے فرمایا میاں صاحب جب قرآن یہی کہتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو میں قرآن کے خلاف کس طرح کوئی بات کہہ سکتا ہوں۔وہ کہنے لگے اچھا تو آپ قرآن کو مانتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں تو قرآن کے ایک ایک حرف اور ایک ایک شعنہ کو بھی قابل عمل سمجھتا ہوں۔وہ کہنے لگے میں پہلے ہی کہتا تھا مرزا صاحب قرآن کی کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ضرور انہیں کسی آیت سے دھوکا لگ گیا ہو گا۔چنانچہ یہی بات صحیح نکلی۔پھر کہنے لگے اچھا اگر میں قرآن کریم سے سوایسی آیتیں نکال کر لے آؤں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ وفات مسیح کا عقیدہ ترک کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا سو کا کیا سوال ہے۔آپ اگر ایک آیت بھی قرآن کریم سے ایسی نکال دیں جس سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو میں اپنے عقیدہ کو بالکل ترک کر دوں گا۔اس پر انہیں قحبہ پیدا ہوا کہ شاید سو آیتیں قرآن کریم میں ایسی نہ ہوں۔اس لئے وہ کہنے لگے اچھا سو نہ سہی اگر پچاس آیتیں لے آؤں تب بھی کیا آپ اپنے عقیدہ کو چھوڑ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں نے تو کہہ دیا ہے کہ آپ ایک آیت ہی نکال لائیں