خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 307

خطبات محمود ٣٠٧ سال ۱۹۳۸ ء بیرونی ملکوں کے لوگ جب ہمارے ملک میں آتے ہیں تو ایک ہی چیز کسی جگہ انہیں کسی قیمت پر ملتی ہے اور کسی جگہ کسی قیمت پر ۔ اگر کوئی ہوشیار گا ہک ہو تو اُس سے کم قیمت لے لیتے ہیں اور اگر کوئی بیوقوف ہو تو اُس سے زیادہ پیسے وصول کر لیتے ہیں ۔ پھر جب وہ دونوں آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ یہ چیز کتنے کو خریدی ہے تو ایک کوئی قیمت بتاتا ہے اور دوسرا کوئی ۔ ایک کہتا ہے میں نے یہ چیز دو روپے کو خریدی ہے اور دوسرا اسی چیز کے متعلق یہ کہتا ہے کہ میں نے بارہ آنے کو خریدی ہے۔ ایک کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کے پندرہ روپے دیئے ہیں اور دوسرا کہتا ہے میں نے دس روپے دیئے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کے اخلاق ان کی نگاہ میں گر جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ترک جھوٹے ہوتے ہیں ۔ یورپ میں ایک حد تک اس پر عمل کیا جاتا ہے مگر اس کے ہر ملک میں نہیں بلکہ زیادہ تر انگلستان میں ہی اس پر عمل ہوتا ہے ۔ ورنہ اور ممالک میں خواہ وہ یورپین ہی کیوں نہ ہوں قیمتوں کا گھٹنا اور بڑھنا ہمیشہ نظر آتا ہے۔ انگلستان میں بھی کسی حد تک ہی یہ بات پائی جاتی ہے مگر جو معزز دکاندار ہیں وہ ہمیشہ اپنی اشیاء کی ایک قیمت رکھتے ہیں اور بعض دکاندار تو اتنی سختی سے کام لیتے ہیں کہ اگر کوئی گاہک انہیں یہ کہے کہ قیمت ذرا گھٹا دیں تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ ہماری دکان سے چلے جائیں ۔ لیکن بہر حال ایشیا کی نسبت یورپ میں اس بات کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے کہ مقررہ قیمتوں پر چیزیں فروخت ہوں ۔ مگر تعجب ہے کہ وہ مذہب جس نے اپنے ابتدائی زمانہ میں سے ہی لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی اس کے ماننے والے اتنی بات بھی نہیں جانتے کہ یہ اصل میں اسلامی تعلیم ہے بلکہ وہ اسے یورپ کی خوبی خیال کرتے ہیں ۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے مدینہ منورہ میں قیمتوں پر اسلامی حکومت تصرف رکھتی تھی ۔ چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ مدینہ کے بازار میں پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک شخص حاطب بن ابی بلتعہ المصلّی نامی بازار میں دو بورے سُوکھے انگوروں کے رکھے بیٹھے تھے ، حضرت عمر نے ان سے بھاؤ دریافت کیا تو انہوں نے ایک درہم کے دو مد بتائے ۔ یہ بھاؤ بازار کے عام بھاؤ سے سنتا تھا ۔ اس پر آپ نے اُن کو حکم دیا کہ اپنے گھر جا کر فروخت کریں مگر بازار میں وہ اِس قد رستے نرخ پر فروخت نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس سے