خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 295

خطبات محمود ۲۹۵ سال ۱۹۳۸ ء سے رک جاتے ہیں ۔ جب یہ رنگ کوئی شخص اختیار کر لے تب وہ واقع میں مؤمن کہلا سکتا ہے ۔ ہے۔ ورنہ نہ ہر جگہ نرمی اچھی ہوتی ہے نہ ہر جگہ سختی ۔ مؤمن صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین کا فائدہ کس میں ہے ۔ اگر اس کے دین کا فائدہ سختی میں ہو تو وہ سختی کرتا ہے اور اگر اس کے دین کا فائدہ نرمی میں ہو تو وہ نرمی کرتا ہے ۔ جب خدا اسے کہتا ہے کہ میرے دین کا فائدہ اس وقت نرمی میں ہے تو وہ اتنا نرم بن جاتا ہے کہ پانی بھی اتنا نرم نہیں ہوتا اور جب وہ کہتا ہے کہ میرے دین کا فائدہ سختی میں ہے تو وہ اتنا سخت بن جاتا ہے کہ لوہا بھی اتنا سخت نہیں ہوتا۔ اس کی نہ سختی اصلی ہوتی ہے نہ نرمی اصلی ہوتی ہے اصل چیز تو وہ عشق اور محبت الہی ہوتی ہے جو اس کے دل میں مخفی ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی آنکھ کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ جس سے اُس کی آنکھ پھرے اُس سے وہ بھی پھر جاتا ہے اور جس پر وہ رحمت کی نگاہ ڈالے اُس سے وہ بھی محبت کرنے لگ جاتا ہے۔ جب خدا کسی کو غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو بغیر ایک منٹ کے ترڈ د کے وہ بھی اس پر غضبناک ہو جاتا ہے اور جب خدا کسی کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو بغیر ایک لمحہ کے توقف کے وہ بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں جس کی اتباع کر رہا ہوں وہ یہی کہتا ہے کہ فلاں غضب کا مستحق ہے اور فلاں رحمت کا ۔ یہ وہ مقام ہے جس کے حصول کی طرف اللہ تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : توجہ دلائی ہے اور منعم علیہ گروہ وہ ہے جس کی دوسری جگہ یہ تشریح کی گئی ہے کہ اس میں نبی ، صدیق ، شہید اور صالح شامل ہیں ۔ گویا منعم علیہ گروہ وہ یہ گروہ وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات کو دنیا میں جاری کرتا ہے کیونکہ سب سے بڑی نعمت اس کی صفات کا آئینہ قلب میں منعکس ہونا ہی ہے۔ نبوت کیا ہے؟ وہ خدا تعالیٰ کا ایک آئینہ ہے ۔ صدیقیت کیا ہے؟ وہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک آئینہ ہے۔ شہادت کیا ہے؟ وہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک آئینہ ہے۔ اور صالحیت کیا ہے؟ وہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک آئینہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی مستقل آئینہ ہے، کوئی عارضی ، کوئی چھوٹا اور کوئی بڑا ۔ کوئی تھوڑی دیر کیلئے آئینہ اور کوئی زیادہ دیر کیلئے مگر بہر حال اپنی ذات میں وہ کچھ نہیں ۔ وہ صرف خدا تعالیٰ کا انعکاس ہیں اور اگر انْعَمْتَ عَلَيْهِم ، کا محبت کی زبان میں ہم ترجمہ کریں تو یوں ہوگا کہ وہ لوگ جن کی طرف تو نے منہ کر کے دیکھ لیا ۔ اب جس آئینہ کی طرف ۔