خطبات محمود (جلد 19) — Page 281
خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۸ ء درست مدعو کرتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس نے تحدیث بالنعمت کی یا کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہو تو لفظی طور پر تحدیث بالنعمت کا مفہوم ادا کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ لوگوں سے کہہ دے کہ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے لیکن محاورہ کے طور پر تحدیث بالنعمت کا مفہوم اُس وقت تک ادا نہیں ہوگا جب تک وہ غریبوں کو کھانا نہ کھلائے یا انہیں کپڑے نہ پہنائے ۔ ہاں جب وہ غریبوں کو کھانا کھلاتا یا ننگوں کو کپڑے پہناتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا عملی رنگ میں شکر یہ ادا کرتا ہے تب کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے تحدیث بالنعمت کی ۔ تو اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدث کے صرف یہی معنے نہیں کہ تو لوگوں سے یہ کہہ دے کہ مجھے فلاں انعام ملا اور گا ملا اور گولفظی طور پر یہ معنے بھی ہیں مگر محاورہ کے لحاظ سے درست نہیں کیونکہ محاورہ میں تحدیث بالنعمت کے یہ معنے ہیں کہ منہ سے اقرار کرے اور عملاً کوئی ایسا فعل کرے جو اس بات پر دلالت کرے کہ اس نے واقع میں اس نعمت کی قدر کی ہے ۔ پس أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدّت کے یہ معنی ہیں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمت نازل ہو اُس کا زبان سے اظہار کرو اور اُس کے شکریہ میں ایسے اعمال بجالاؤ جو دنیا کو فائدہ اور آرام پہنچانے والے ہوں ۔ جب کوئی شخص ان دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے تحدیث بالنعمت کرتا ہے تو اُس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدر کی ۔ اب ایک طرف اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مجھ سے انعام مانگو اور دوسری طرف اس کے سیاق وسباق اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدان تعالیٰ سے جو چیز مانگی ، بالخصوص ایسی چیز جس کے مانگنے کا وہ خود حکم دے وہ انسان کو ضرور دیتا ہے ۔ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے کہ تم اس نعمت کا اظہار کرو جو تمہیں ملے اور شکر اور امتنان کا کوئی طریقہ اختیار کرو جس سے معلوم ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدر کرنے والے ہو۔ سے اور جائے ، یا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مؤمن کو جو نعمت ملتی ہے اور جس کا اس آیت میں بھی ذکر کیا گیا ہے وہ کیا ہے؟ سو یا د رکھنا چاہئے کہ سب سے اعلیٰ نعمت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے نبوت ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ سکھلایا ہے کہ تم ہمیشہ یہ دعا مانگتے رہو کہ اللہ تعالیٰ تم میں اپنی اس نعمت نبوت کو قائم رکھے۔ اب نبی اپنی نعمت کی تحدیث کس طرح کرتے ہیں سو یہ ہر شخص جانتا ہے کہ نبی اپنی نعمت کی تحدیث اس طرح کرتے ہیں کہ وہ دنیا