خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 280

خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۸ء ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک دوست دوسرے دوست کے ہاں بعض دفعہ ملاقات کیلئے چلا جاتا ہے تو وہ اس کی خاطر تواضع کیلئے اس کیلئے کھانا پکواتا ہے اور اگر امیر ہو تو کئی کئی قسم کے کھانے تیار کراتا ہے اور اگر غریب ہو تب بھی وہ اچھی سے اچھی چیز اس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر یہ کھانا اس کا مقصود نہیں ہوگا بلکہ اس کا اصل مقصد دوست سے ملاقات کرنا ہو گا اور وہ چاہے گا کہ میں اپنے دوست کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کروں چاہے کھانا مجھے ملے یا نہ ملے۔اسی طرح اس دنیا کی نعمتیں مؤمن کومل تو جاتی ہیں مگر وہ اس کا مقصود نہیں ہوتیں۔مقصود والا انعام بالکل اور ہے۔اب وہ انعام جو اس دعا کے نتیجہ میں مؤمن کو ملتا ہے وہ کچھ بھی ہو قرآن کریم انعامِ الہی کے متعلق یہ ہدایت دیتا ہے کہ آقا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدّث۔تو اپنے رب کی نعمت کو کی لوگوں کے سامنے پیش کر۔اپنے عمل سے بھی اور اپنے قول سے بھی کیونکہ تحدیث پالنعمت کے لفظی معنے گو صرف اتنے ہی ہیں کہ نعمت کو بیان کرنا مگر عربی زبان کے محاورہ کے لحاظ سے تحدیث پالنعمت کے معنی یہ ہیں کہ شکر گزاری کے طور پر عملی رنگ میں دنیا پر یہ ظاہر کرنا کہ میں اس نعمت کی واقعہ میں قدر کرتا ہوں کیونکہ تحدیث باب تفعیل سے ہے اور یہ باب معنوں میں کثرت و وسعت پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ کسی کو کوئی خاص اعزاز حاصل ہو یا بڑا انعام ملے تو وہ اس خوشی میں لوگوں کی دعوت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تحدیث بالنعمت کے طور پر یہ دعوت کر رہا ہوں حالانکہ وہ اس وقت کھانا کھلا رہا ہوتا ہے کوئی تقریر نہیں کر رہا ہوتا اور اگر بالفرض وہ کھانا نہ کھلائے اور محض لوگوں کو بلا کر یہ خبر سنادے کہ مجھے فلاں اعزاز حاصل ہوا ہے تب بھی لفظی طور پر وہ تحدیث پالنعمت کا مفہوم پورا کر سکتا ہے۔لیکن محاورہ کے لحاظ سے تحدیث بالنعمت کے جو معنے ہیں ان کو وہ پورا کرنے والا نہیں ہوگا۔اگر کسی کو خان بہادر کا خطاب ملے اور وہ لوگوں کو کی اکٹھا کر کے ایک تقریر شروع کر دے اور کہے لوگو مجھے خان بہادر کا خطاب ملا ہے اور میں آپ کی سب کو اس کی اطلاع دیتا ہوں تو لوگ اس کی بات سن کر ہنسیں گے اور کہیں گے میاں ! اگر تم نے صرف اتنی بات بتائی تھی تو ہمیں اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت تھی ، ہم اخباروں میں ہی یہ خبر پڑھ سکتے تھے۔لیکن اگر وہ اس خوشی میں اپنے دوستوں کی دعوت کرتا ہے اور انہیں کھانے یا چائے پر کی